انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اورZombiesکا راج

loading...

پاکستان سپر لیگ سیزن تھری کے لاہور میں ہونیوالے 2پلے آف میچوں کے کامیاب اور پرامن انعقاد پر بلا شبہ وفاقی حکومت، پاک فوج، حکومت پنجاب اور خصوصاً پاکستان کرکٹ بورڈ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا پی ایس ایل کھیلنے والے متعدد انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان میں پلے آف میچوں میں کھیلنے کیلئے رضامند کرنا بھی قابل تحسین ہے ۔ پاکستان کے قذافی سٹیڈیم لاہور میں 27ہزار شہریوں کو براہ راست کرکٹ میچوں کی صورت میں تفریح پہنچانا بھی ایک احسن اقدام ہے لیکن۔۔۔۔
تمام حکومتی اقدامات کو سراہنے کے بعد اگردرمیان میں یہ ’’لیکن ‘‘ لفظ آ یا ہے تو یہ بھی غور طلب ہے کہ قذافی سٹیڈیم لاہور کے اردگرد ملحقہ علاقوں میں ہونیوالے کاروبار کو2روز کے میچوں کے باعث ایک ہفتہ قبل ہی بند کروا دیا گیا ۔ لاہور کی ایک کروڑ 11لاکھ 26ہزار 285کی آبادی میں سے 27ہزار کو براہ راست تفریح پہنچانے کیلئے باقی ایک کروڑ 10لاکھ سے زائد کی آبادی کو راستے بند کر کے سڑکوں پر ذلیل وخوار ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ قذافی سٹیڈیم کے اردگرد کے علاوہ کچھ دور دراز کے علاقے کو بھی اس طرح سیل کیا گیا کہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے ۔
حکومت کی جانب سے میڈیا پر اشتہارات کی صورت آگاہی کیلئے دیا جانیوالا ٹریفک پلان مکمل طور پر ناکام رہا اور شہری منزل مقصود پر پہنچنے کیلئے اِدھر سے اُدھر شاہراہوں پر بھٹکتے رہے۔ اس دوران بیشتر مقامات پر شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے اور کیوں نہ آتے کہ 2گھنٹوں تک سڑکوں پر گھومنے کے باوجود منزل مقصود حاصل نہ کرنے پر شہریوں کا لہو کھول اٹھنا معمولی بات ہے لیکن آفرین ہے پولیس کے ان جوانوں پر جو افسروں کی سخت ہدایات کے باعث ڈنڈے کے زور پر شہریوں کو اِدھر سے اُدھر ’’ہانکتے ‘‘رہے۔
یہ سب کچھ دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص دہشت گردی سے پاک ایک امن پسند ملک کے طور پر بحال کرانے کیلئے کیا گیا۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر اس طرح سٹیڈیمز کے ارد گرد اور کچھ دور دراز کے علاقے کو ’’نوگوایریاز‘‘ بنا کر امن پسند اور دہشت گردی سے پاک پاکستان کا تشخص بحال ہو جاتا ہے اور بھوک و افلاس کی ماری قوم کو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی براہ راست تفریح مہیا ہو جاتی ہے تو ہر بار جب بھی کوئی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان پہنچے گی تو انہیں وی وی آئی پی پروٹوکول فراہم کرنے کیلئے شاہراہیں بند اور کرفیو نافذ کرکے کیا ہم دنیا کو ایک امن پسند ملک ہونے کا پیغام دینے میں کامیاب ہو جائینگے؟
پاکستانی قوم تو پہلے ہی درجنوں وفاقی و صوبائی وزراء کے علاوہ اہم قومی شخصیات کے پروٹوکولز کے باعث سڑکوں پر گھنٹوں ’’مٹر گشت‘‘ کرتی رہتی ہے۔ ملک میں اس طرح کی انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی صورت میں تو شاید گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر جانیوالے شہری ’’منزل مقصود‘‘ پر پہنچنے میں کامیاب ہی نہ ہو سکیں۔
حکومت وقت پر عوام کو تفریح پہنچانا بے شک فرض ہے لیکن کچھ ہزار شہریوں کو تفریح پہنچانے کے فرض کی ادائیگی کیلئے لاکھوں عوام کو تکلیف میں مبتلا رکھنا بلاشبہ مناسب نہیں۔ دنیا میں امن پسند پاکستان کا تشخص بحال کرانے کیلئے بے شک احسن اقدام اٹھائے جائیں لیکن اس کیساتھ ساتھ شہر بھر کو ’’نوگوایریا‘‘ بنا کر عوام کو تکلیف میں مبتلا نہ کیا جائے اور تشہیر کردہ ٹریفک پلان کی ناکامی کی بھی متعلقہ اداروں سے پوچھ گچھ کی جائے ۔۔۔وگرنہ روٹی، کپڑا، مکان کے حصول کیلئے ماری ماری پھرنے والی عوام ’’دماغی امراض‘‘ کا شکار ہو جائیگی اور جب دماغ ہی کام کرنا چھوڑ دیں تو وطن عزیز کی شاہراہوں پر انسان نہیں زومبیز “Zombies”کاراج ہو گا۔ یقیناًZombies کا مطلب تو آپ کو معلوم ہی ہوگا یعنی ’’سرپھروں‘‘کا راج۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں