عربوں سے امتیازی سلوک، فرانس کے ایک ہوٹل کو تحقیقات کا سامنا

فرانس

ہوٹل میں عرب، افریقی گاہکوں ،با حجاب خواتین کے ہوٹل میں قیام پر پابندی،حکام نے تحقیقات شروع کردیں

پیرس: فرانس میں اسلام فوبیا کے بڑھتے اثرات سے متاثر ہونے والے ایک ہوٹل نے مسلمان اور عرب گاہکوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب پیرس کے اس مشہور ہوٹل کی طرف سے مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کے واقعات کی تحقیقات کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق فرانس میں وزیر کے منصب کے مساوی انسانی حقوق کے مندوب جاک ٹوپون نے پیرس کے ہوٹل کی طرف سے مسلمان گاہکوں سے امتیازی سلوک کے واقعات کی چھان بین شروع کی ہے۔ ہوٹل پر الزام ہے کہ اس نے عرب، افریقا سے آنے والے گاہکوں اور حجاب کرنے والی خواتین کے ہوٹل میں قیام پر غیر قانونی طور پر پابندی لگا رکھی ہے۔

پیرس کے ماونٹین ایونیو میں واقع ہوٹل کی انتظامیہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے ایسے گاہکوں کی بکنگ پر پابندی عاید کر رکھی ہے جن کے نام عربی میں ہیں۔ اس کے علاوہ محجب خواتین بھی ہوٹل میں کھانا کھا سکتی ہیں اور نہ ہی قیام کے لیے انہیں بکنگ کی سہولت حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کی معلومات کے مطابق اس ہوٹل کے گاہکوں میں خلیجی ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مگرعرب ناموں کی پابندی کے باعث ان کا قیام بھی متاثر ہوا ہے۔ ہوٹل کے ڈائریکٹر پر گاہکوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے جس کے باعث گاہک خوف زدہ ہیں۔

مزید پڑھیں۔  نوازشریف کی سزا انتقام اور پری پول دھاندلی تھی، احسن اقبال

دوسری جانب پیرس کے میئر کی معاون ھیلین بیدار نے ہوٹل انتظامیہ نے ناروا سلوک پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں فرانسیسی پراسیکیوٹر جنرل سے ہوٹل کے امتیازی رویے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں