نواز شریف اور شاہد خاقان کے خلاف غداری کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی

نوازشریف

لاہور: سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف غداری کے الزام میں بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت آج پھر ہوگی۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ درخواست پر سماعت کرے گا۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل ہیں۔ عدالت نے سابق وزراء اعظم کو تحریری جواب داخل کروانے کا حکم دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ ایک شہری آمنہ ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے انگریزی اخبار کو دیئے گئے ایک متنازع انٹرویو کو بنیاد بناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

 جس میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کے حلف کی پاسداری نہیں کی اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا اپنے مذکورہ متنازع بیان میں کہنا تھا کہ ‘عسکری تنظیمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اور ممبئی حملوں کے لیے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئے’۔

 سابق وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران سوال اٹھایا تھا کہ ‘کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے؟’

نواز شریف کے اس بیان پر بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جب کہ ملکی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی سابق وزیراعظم کے بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان پر پاک فوج کی تجویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا جس میں نواز شریف کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا گیا اور اس کی مذمت بھی کی گئی۔

نواز شریف کے بیان کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم کی حیثیت سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کیا۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ نواز شریف نے متنازع انٹرویو دے کر ملک و قوم سے غداری کی جب کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیراعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں