سعودی عرب کا داخلی بحران اور ہماری معاشی توقعات

سعودی پاک

سعودی عرب نے دو ہفتوں تک عالمی طور پر شدید بحرانی صورت حال کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر اعتراف کر لیا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔ استنبول میں سعودی قونصل خانے سے لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے معاملے نے عالمی منظر نامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اسی وجہ سعودی عرب پر عالمی دباؤ میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صحافی کی گمشدگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت سے انکار کرچکی تھیں اور اب برطانیہ فرانس اور نیدرلینڈ کے سینئر وزراء نے بھی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے آئندہ ہفتے سعودی دارالحکومت ریاض میں عالمی کانفرس کا انعقاد کیا جارہا ہے جو ان کی معاشی اصلاحات کی پالیسی کا ایک حصہ ہے۔

جب دنیا بھر کے اقتصادی لیڈر اور وزرائے خزانہ اگلے ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت سے انکار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے شاہ سلمان کی دعوت پر اس کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے اچانک دعوت ملنے کی خوشی میں اس کا پس منظر جاننے کی بجائے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ دوست ملکوں سے مدد ملنے کی پوری توقع ہے۔ ضروری نہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی ضرورت پڑے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے اس ماہ کے شروع میں روپے کی قدر میں اچانک کمی اور کراچی اسٹاک ایکسچینج میں سامنے آنے والی بے چینی کے بعد عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹینے لاگارڈے کے ساتھ ملاقات میں فنڈ سے ایک نئے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومتیں اس سے پہلے ڈیڑھ درجن بار آئی ایم ایف سے پیکج لے چکی ہیں۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا قرض لینے میں کوئی حرج نہیں۔ پاکستان کو اس وقت ادائیگیوں کے توازن میں شدید خسارے کا سامنا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

مالی بحران کے حل کے لیے کوئی ٹھوس متبادل سامنے لانے کی بجائے وزیراعظم سمیت کابینہ کے ارکان نے متضاد اور غیر حقیقی بیانات دے کر سرمایہ داروں کو مزید بے یقینی کا شکار کیا ہے۔

گزشتہ ماہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورہ کے بعد یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی گئی کہ سعودی عرب عمران خان کی درخواست پر دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے اور پاکستان کو مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر تیل فراہم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی سعودی سرمایہ کاری اور فراخدلانہ امداد کے بارے میں پر جوش بیانات دیتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپنی معاشی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض لے۔ ہم متبادل ذرائع سے سرمایہ کی فراہمی پر غور کررہے ہیں۔ مالیاتی معاملات اور عالمی سفارتی ضرورتوں سے نابلد وزیراعظم اس امید کے ساتھ ریاض جارہے ہیں کہ اس دورہ کے دوران وہ کچھ عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرلیں گے۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتوں میں انہیں پاکستان کو کچھ امداد دینے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

سعودی امداد ملنے کی خوش فہمی کے جوش میں وزیراعظم یہ غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ شاہ سلمان نے ایک ایسے وقت پاکستانی وزیراعظم کو ریاض کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے جب سعودی صحافی جمال خشوگی کی پراسرار گمشدگی کے بعد دنیا کے مالیاتی لیڈر اور سیاسی رہنماء یکے بعد دیگرے بڑی تعداد میں اس کانفرنس میں شریک ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ انکار کرنے والوں میں اب امریکہ کے وزرائے تجارت اور خزانہ بھی شامل ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے فرانس، ہالینڈ اور متعدد دوسرے ملکوں کے وزرائے خزانہ نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا تھا جسے عرف عام میں صحرائی ڈاووس کا نام بھی دیا جانے لگا تھا۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹینے لاگارڈے دو روز پہلے اس کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کرچکی ہیں۔ عالمی لیڈروں کا سعودی کانفرنس میں جانے سے گریز کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ عمران خان نے سعودی دعوت وصول ہونے کی خوشی میں یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ آخر ایک ایسے وقت پاکستان کے وزیراعظم دعوت کیوں دی گئی ہے جب دنیا بھر کے لیڈر اس کانفرنس میں شرکت سے گریز کررہے ہیں۔

یہ دعوت اس وقت کیوں نہ آئی جب دیگر عالمی لیڈروں کو مدعو کیا جارہا تھا۔ اس کانفرنس سے وابستہ کی جانے والی توقعات پوری ہونے کا امکان بھی موجود نہیں۔ انہی حالات میں عمران خان کو اس سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں