کیا ڈیل ہوگئی ہے؟

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس

(محمد افضل بھٹی)

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث جاری ہے کہ شریف خاندان کی دوبارہ سے ڈیل ہوگئی ہے۔ اس بحث میں دو گروپ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جبکہ ایک گروپ خاموش ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جو دو گروپ اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں وہ دونوں پی ٹی آئی یعنی حکومتی پارٹی کے کارکنوں پر مشتمل ہیں اور جو گروپ خاموش رہ کر مزے لے رہا ہے اسکا تعلق ن لیگی کارکنوں سے ہے۔ حکومتی پارٹی کے کارکن دو دھڑوں میں منقسم ہو چکے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ ڈیل ہوگئی ہے۔ یہ گروپ اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے جو دلائل دیتا ہے وہ بھی حقیقت پر مبنی ہیں۔ مثلاً جس دن میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کو ضمانت پر رہائی ملی اسی دن وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دورے پر تھے جس سے شکوک و شبہات نے جنم لیا کیونکہ مشرف دور میں شریف خاندان کی جو ڈیل ہوئی تھی اس میں سعودی عرب کا اہم کردار تھا۔ چونکہ پاکستان کا خزانہ اس وقت خالی ہے اور اسے پیسوں کی اشد کی ضرورت ہے لہذا ایسے وقت میں سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے لیے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرنا ڈیل کے متعلق شبہات کو بڑھاوا دیتا ہے۔

انہی شکوک کی بنیاد پر یہ گروہ دعوے دار ہے کہ عمران خان نے سعودی فرماںروا محمد سلمان سے شریف خاندان کی ڈیل کرلی ہے۔ پی ٹی آئی کا مخالف گروہ ان تمام افواہوں کی نفی کرتا ہے اور دعوے دار ہے کہ کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ اپنے دعوے کے حق میں وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ عمران خان بائیس سال سے جدوجہد کررہا ہے۔ اس دوران اسے شریف فیملی کی طرف سے اپنے ساتھ مل جانے اور عیش کرنے کی بھی آفرز ہوئیں مگر اس نے ٹھکرا دیں۔ اگر اس نے کرپشن پر سمجھوتہ کرنا ہوتا تو آج سے کئی سال پہلے کرچکا ہوتا۔

دوسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ عمران خان کے سیاست میں آنے اور آخرکار کامیاب ہونے کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے شریف اور زرداری خاندان کی کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا۔ عوام چونکہ ان دونوں خاندانوں کی کرپشن سے تنگ آچکے ہیں اس لئے عوام نے اس بار عمران خان کو موقع دیا ہے تاکہ وہ پاکستانی عوام کو ان کے چنگل سے آزاد کروائیں۔ اب اگر عمران خان کسی بھی وجہ سے سمجھوتہ کرکے ان دونوں خاندانوں کی کرپشن پر آنکھیں بند کرلیتا ہے تو پھر خان کی سیاست ختم سمجھیں۔

تیسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ عمران خان نے ہمیشہ ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے لہذا اب کی بار بھی وہ سرخرو ہوگا اور نہ صرف کرپٹ لوگوں کو احتساب کرے گا بلکہ پاکستان کو دنیا کی نظر میں ایک باوقار ملک بھی بنائے گا۔ بنظر غائر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کا دوسرا گروہ جو ڈیل ہونے کی نفی کرتا ہے وہ حق بجانب نظر آتا ہے۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔

اول، مشرف دور میں جب ڈیل ہوئی تھی تب پاکستان میں مارشل لاء نافذ تھا جوکہ امریکہ بہادر کی ضرورت تھی لیکن دنیا کو دکھانے کے لیے جمہوریت کا راگ الاپنا بھی ضروری تھا۔ مزید یہ کہ مشرف کو قابو اور دباؤ میں رکھنے لیے مشرف مخالف قوتوں کا وجود ضروری تھا یہی وجہ تھی کہ انکل سام نے سعودی عرب کی مدد سے مشرف سے ڈیل کی اور نواز شریف کو بحفاظت بیرون ملک لے گیا۔

اب حالات یکسر بدل چکے ہیں کیونکہ پاکستان میں اس وقت ایک جمہوری حکومت ہے مزید یہ کہ امریکہ میں بھی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ مسند اقتدار پر براجمان ہے جو سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ لگا رہا ہے۔ وہ اس ضعم میں مبتلا ہے کہ امریکہ جو کام نکلوانا چاہے وہ دھونس دھمکی سے ہی کروا لے گا اسکے لیے اسے مہروں کی ضرورت نہیں۔ اسکی واضح مثالیں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرنا اور ایران پر پابندیوں کا اطلاق ہے۔ ٹرمپ کا یہ عقیدہ ہے کہ جب امریکہ دھمکیوں سے کام نکلواسکتا ہے تو مہروں کی کیا ضرورت۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال امریکہ کو نواز شریف کی ضرورت نہیں لہذا وہ کسی بھی قسم کی ڈیل کے لیے پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالے گا۔

دوم، سعودی عرب کے فرماںروا محمد بن سلمان نے مسند اقتدار پر بیٹھتے ہی کچھ ایسے اقدامات کیے تھے کہ کرپٹ افراد کو جان کے لالے پڑ گئے تھے مثلاً اس نے بڑے بڑے کرپٹ افراد کو پکڑ کر نظر بند کر دیا تھا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک انہوں نے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں کی۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایسا حکمران کرپشن کے الزامات پر نکالے گئے سابقہ وزیراعظم کی مدد کے لیے آئے گا۔ ہرگز نہیں۔

مزید یہ کہ سعودی عرب کو اس وقت پاکستان کی طرف سے بھرپور اخلاقی اور فوجی حمایت درکار ہے کیونکہ حوثی باغیوں نے اسکی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اگر پاک آرمی اور وزیراعظم سعودی عرب کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرواتے تو سعودی عرب کے لیے کئی مشکلات جنم لیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بلکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کا ہر طرح سے دفاع کیا جائے گا۔ لہذا یہ بات طے ہے کہ اس بار سعودی عرب بھی نواز شریف کو بچانے نہیں آئے گا۔

تیسرا، اس خطے کی امریکہ کے بعد دوسری بڑی طاقت چین ہے۔ اور چین وہ واحد ملک ہے جہاں کرپٹ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر سرعام سزائے موت دی جارہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چین کرپشن کے الزامات پر معزول سابق وزیراعظم کی مدد کو آئے گا۔ شاید اب کی بار قسمت کی دیوی نواز شریف پر مہربان نہیں۔ اسی لیے کسی قسم کی ڈیل کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں