لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں بڑے پیمانے پر کرپشن، فرانزک آڈٹ شروع

ایل ڈبلیو ایم سی

سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ کمپنی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں، فرانزک آڈٹ رپورٹ کو دیکھ کر جو بھی ملوث ہوا سخت ایکشن لیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کی تحقیقات کے لیے فرانزک آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ اس اہم معاملے پر گفتگو میں سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے بتایا کہ کمپنی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ کوڑا اٹھانے کے نام پر سرکاری خزانے کی لوٹ مار کی گئی۔

‘ فرانزک آڈٹ کے دوران گزشتہ 7 سالوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، رپورٹ کو دیکھ کر جو بھی ملوث ہوا سخت ایکشن لیا جائے گا۔’

دوسری جانب لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ کرپشن کے معاملے میں نیب لاہور نے اہم ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جس میں کوڑا اٹھانے کے لیے 50 فیصد تک غیر ملکی کمپنیوں کو مہنگے ٹھیکے دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب کی جانب سے جلد اہم کارروائیاں متوقع ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کی خبریں میڈیا میں گردش کر رہی تھیں۔

ذرائع کے مطابق نیب کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کوڑا اٹھانے کے لیے متعلقہ کمپنی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 50 فیصد تک مہنگے ٹھیکے دیے۔

نیب ذرائع کے مطابق جس مقصد کے لیے کمپنی بنائی وہ مقصد پورا ہی نہ ہو سکا۔ کوڑا کم اکھٹا ہوتا لیکن ریکارڈ میں زیادہ ظاہر کیا گیا۔ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے کمپنی نے اقدامات نہیں کیے بلکہ سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ کوڑے کے بجائے مٹی اور پتھر کا وزن کیا جاتا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوڑا اٹھانے کے لیے قانون کی خلاف ورزی بھی کی گئی اور الگ سے بوگس ملازمین بھی بھرتی کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ نیب کی جانب سے کئی اہم دستاویزات کی چھان بین کرنے کے بعد جلد کارروائیاں متوقع ہیں۔

loading...

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں