احتساب عدالت نے شہبازشریف کا 7 روزہ راہداری ریمانڈ دے دیا

آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل

لاہور: احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کا 7 روزہ راہداری ریمانڈ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو راہداری ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے شہبازشریف سے استفسار کیا کہ بتائیں قومی اسمبلی کا کتنے دن کا سیشن ہے، مجھے کچھ علم نہیں کیونکہ اخبار یا ٹی وی کی سہولت میسرنہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عدالت نے طبی سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، عدالتی حکم کے باوجود میرے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا گیا۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہفتے میں ایک بارملاقات کی قانونی طورپراجازت ہے، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے لیے شہبازشریف کے اہل خانہ کی درخواست ہی نہیں آئی۔

احتساب عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ کے اہل خانہ ملنے آئے اگروہ آئے ہی نہیں توکیسے ملاقات کراتے، میرے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 2 مرتبہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی گئی، میرے دھیلے کی کرپشن توکیا ایسی نیت تک ثابت نہیں کرسکے۔

loading...

شہبازشریف نے کہا کہ آشیانہ سے متعلق 2014 کی میٹنگ کے شرکا سے ملاقات نہیں کرائی گئی، احتساب عدالت نے ہدایت کی کہ ڈی جی نیب شہبازشریف کے فیملی ممبران اورمیڈیکل کی سہولت کو یقینی بنائیں۔

شہبازشریف کی عدالت میں پیشی کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ پولیس نے عدالت کی جانب جانے والے راستے کنٹیرز کھڑے کرکے بند کردیے۔

اپوزیشن لیڈر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں گرفتار ہیں اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں۔

شہبازشریف کو لاہور سے اسلام آباد بذریعہ پی آئی اے کی پرواز لے جایا جائے گا جہاں وہ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار اپوزیشن لیڈر شہبازشریف جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہیں۔

واضح رہے نیب لاہور نے گزشتہ ماہ 5 اکتوبر کو شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پرانہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں