اولین ترجیح:پاکستان کا مفاد

trumph

دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان مخالف بیان پرامریکی ناظم الامور کو طلب کرکے غیر ضروری اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ احتجاجی مراسلہ امریکی ناظم الامور پال جونز کے حوالے کیا اور کہا کہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے ایسے بے بنیاد بیانات ناقابل قبول ہیں ۔ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے احتجاجی مراسلہ امریکی ناظم الامور پال جونز کے حوالے کیا۔ترجمان کے مطابق مراسلے میں پاکستان کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے غیر ضروری اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج کیا گیا۔ پاکستان نے امریکی صدر کی حالیہ ٹویٹس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے ایسے بے بنیاد بیانات ناقابل قبول ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ تھا ‘پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے غلط بیانات پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔امریکا اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرانہ بنائے ،ٹرمپ اپنا ریکارڈ درست کریں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزارجانیں دیں اور16482ارب روپے کا مالی نقصان اٹھایاجبکہ امریکا نے ہمیں محض 2680ارب روپیکی حقیر امداددی ٹرمپ بتائیں کس ملک نے ہم سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

امریکی صدر نے پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حال ہی میں ایک انٹر ویو میں جو بے بنیاد الزامات لگائے وزیر اعظم اور ریاست پاکستان کی جانب سے اس کا مسکت جواب دیا گیا ۔۔ وزیر اعظم نے افغانستان میں امریکی ناکامیوں سمیت ایسے کئی حقائق کی نشاندہی کی جو امریکہ کی توقعات کے علی الرغم مسائل میں گھرے امریکہ کے لئے پاؤں کی زنجیر بن چکے ہے۔ امریکہ کو بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ یاد دلانا ضروری تھا کہ ڈیڑھ لاکھ افواج،دنیا کے جدید ترین ہتھیار اور ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں وہ کیوں ناکام ہیں؟ اس کا حساب انہیں اپنی پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے نا کہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ جو پاکستان پر دہشت گردی کی معاونت کے بے بنیاد الزامات لگاتا چلا جاتا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ پر غیر ملکیوں کے سب سے بڑے حملے میں پاکستان کا کوئی شہری ملوث نہ تھا مگر اس کے باوجود محض امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت اور دنیا کے امن کی خاطر پاکستان نے وہ سب فیصلے قبول کئے جن سے ہمارے عوام کا ایک حلقہ بھی متفق نہ تھا۔

وہ آج تک اسے بڑی غلطی قرار دیتے ہیں۔ مگر اس عوامی دباؤکے باوجودپاکستان کی حکومتوں نے امریکہ کی سب سے مہنگی اور طویل جنگ میں بلامشروط مدد کی اور مدد بھی ایسی کہ اس کے بغیر امریکہ کے لئے اس جنگ کا جاری رکھنا ناممکنات میں سے تھا۔ صرف لاجسٹک سپورٹ ہی کو دیکھا جائے تو یہ افغانستان میں مصروف امریکی اور اتحادی افواج کی لائف لائن تھی مگر پاکستان کی حکومت نے اس پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا الٹا اس کی حفاظت پر اپنی فورسز تعینات رکھیں اور اس کے باعث جو مسائل پیدا ہوتے رہے وہ الگ ہیں۔افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں اس خطے میں معمول کی زندگی متاثر ہوئی اور دہشت گردی کی کھمبیاں اگنے لگیں۔ سرحد کے اس طرف آگ اور خون کے کھیل نے ہمارے گھر کو بھی متاثر کیا ۔

پاکستان میں دہشت گردی کی لہر افغانستان میں امریکی حملے کا نتیجہ تھی مگر پاکستان کی بہادر افواج نے قریب ایک دہائی کی قربانیوں اور کوششوں سے حالات کو بدترین نہج سے امن کے اجالے کی جانب موڑا ہے ۔جہاں تک امریکہ کی ناکام امیدوں کا سوال ہے جو امریکی صدر کے ہیجان کا باعث ہیں تو اس کا الزام پاکستان کونہیں دینا چاہیے۔ امریکی دانشمند اور عسکری قیادت کو بھی اس کا ادراک ہے کہ افغانوں سے معاملے کا جو راستہ امریکہ نے چنا ہے اس میں امریکہ کسی صورت کامیاب نہ ہو سکے گا۔ پاکستان کا تعاون بہت ہو چکا مگر اب امریکہ شاید ایسی قیادت کے نرغے میں ہے جو عقل و ہوش کی بات سننے پر آمادہ نہیں۔ مگر پاکستان جس پیراڈائم شفٹ سے گزر رہا ہے ،ان تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے رویے میں بدلاؤ پر حیرت کیسی؟ یہ اپنی مرضی سے وسیع اور طویل مدتی مفادات کی خاطر لئے گئے فیصلوں کی قیمت ہے۔پاکستان اور چین کے مراسم میں جس قدر مضبوطی آتی جائے گی، امریکہ کا رویہ بدلتا جائے گا۔ اس حوالے سے پاکستان نے چین روس اور خطے کے دوسرے ممالک بشمول برادر عرب ممالک کے ساتھ دفاعی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کی درست حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ہمارے ساتھ طوطا چشمی کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ ایسے کو تیسا کی پالیسی اختیار کرنا بہرصورت ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں