نبی اکرمؐ کی تعلیمات ہی نمونہ حیات

نبی اکرمؐ

تاریخ عالم کا ہر لفظ اس امر پر شاہد ہے کہ جب بھی کوئی پیغامبر اور مصلح رشد و ہدایت یا امن و سلامتی کا پیام لے کر آیا،اس کی ہستی کو نیست و نابود کرنے کے لیے باطل کی طاغونی قوتیں اپنی پوری طاقت و ہمت اور اقتدار کے ساتھ بروئے کار آگئیں۔حق و باطل کی آویزش اور ستیزہ کاری اس جہان بے مایہ کا قدیم دستور رہا ہے۔ اسی طرح لشکر کفار کے مقابلے میں شہنشاہ ارض و سماء، حبیب کبریا نبی اکرمؐ جس بیں سروسامانی میں اعلائے کلمتہ الحق کا فریضہ سر انجام دیتے رہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

حق و باطل کی یہ جنگ کسی دنیاوی جاہ و منصب کے لیے نہ تھی بلکہ اس کے پس منظر میں لا الہ الا اللہ کے فرمان کو برقرار رکھنے کی عملی جدو جہد تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عامتہ الناس کے قلوب حق پرستی کے جذبات سے معمور ہو گئے اور حق کو فتح ہوئی اور باطل سرنگوں ہو گیا۔ اور یہ امر مسلمہ ہے کہ آپؐکے فیض سے کائنات کے ذرے ذرے نے استفادہ کیا اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔خاتم النبینؐکا ایک زبر دست معجزہ یہ ہے کہ آپؐکی زندگی ،آپ کے حالات، آپ کی صورت، آپ کی سیرت، آپ کی تعلیمی سرگرمیاں من و عن صفحات تاریخ پر ہی نہیں بلکہ ہزاروں ذہنوں میں محفوظ ہیں۔اس میں شک و شبہ نہیں کہ سرور دو عالم کی ذات گرامی حسن و جمال کا پیکر تھی۔

قدرت حق نے آپ کو بے مثال اور بے نظیر بنایا تھا۔اور ایسے حسیں سانچے میں ڈھالا جس کی مثال نا ممکن ہے۔ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے نبی اکرمؐ کو کائنات میں مبعوث فرمایا ۔بلاشبہ امت مسلمہ کے لئے آج کے پرفتن اور پرآشوب دور میں صرف اور صرف رسول اکرؐ کی تعلیمات پر عمل کر کے اورآپؐکے کردار کو مشعل راہ بناکر ہی معاشرے میں انقلا ب برپا کیا جا سکتا ہے ۔ نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ ہمارے لیے نمونہ حیات ہے ،آپؐ کی سیرت واخلاق کو اپنا کر ہم دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

loading...
Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں