انتخابی دھاندلی کمیٹی اجلاس: اپوزیشن نے اپنے ٹی او آرز پیش کر دئیے

اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ٹی او آرز پیش کر دیئے۔

انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنے ٹی او آرز کا تحریری مسودہ حکومت کو دیدیا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں انتخابات شفاف ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے پر اعتراض نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی بنا دی جائے، ہمیں کسی صورت انتخابات سے متعلق کمیٹی بنانے پر اعتراض نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے دو بڑے مطالبات تسلیم کیے، برابر ارکان اور سینیٹرز کو شامل کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری نیت بہت صاف ہے کیونکہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹی او آرز سے متعلق وزارت قانون کو معاملہ نہیں بھیجا، معاملہ کمیٹی چیئرمین پرویز خٹک کو بھیجا، ہم ذیلی کمیٹی ہیں۔


تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا تھا کہ معاملہ آگے نہ بڑھانا ہوتا تو حکومتی نمائندے آرٹیکل 225 کا حوالہ دے دیتے، ہم نے اس سے الٹ فیصلہ کیا اور کہا کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کام جاری رکھنے کا فیصلہ ہماری نیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے انتخابات پر جوڈیشل کمیشن بنا، جس کے فیصلے کو سب نے تسلیم کیا۔

شفقت محمود نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مسودہ پیش کیا، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن سے رانا ثناء بھی شامل تھے جنہوں نے 10 نکات کا مسودہ دیا۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ مسودےکو حکومتی کمیٹی دیکھے گی اور اس میں جو شامل ہو سکتا ہے وہ کریں گے، کمیٹی کے اگلے اجلاس میں حکومتی نمائندگان کی جانب سے مسودہ پیش کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 225 سے متعلق تحریری موقف دینے کی ضرورت نہیں، ہمارا موقف واضح ہے، یہ آرٹیکل تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔

loading...


انہوں نے کہا کہ ہم نے آج اپنی جانب سے ٹی او آرز تجویز کر دیئے ہیں، حکومت نے اپنے ٹی او آرز دینے کے لیے وقت مانگا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس 28 نومبر کو ہو گا، ذیلی کمیٹی کے پاس دو ہفتے کا وقت تھا جو ختم ہو رہا ہے، مزید وقت لینے کے لیے دوبارہ مرکزی کمیٹی میں جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی مسودہ نہیں دیا گیا، مثبت رویہ تب نظر آئے جب تحقیقات کا کام کوئی شکل اختیار کر لے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت شاید اس مسئلے پر اٹکی ہوئی ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس اختیار نہیں۔

خیال رہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں انتخابی دھاندلی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ 8 نکاتی ٹی او آرز 

 1۔ کیا الیکشن ایکٹ 2017 اور متعلقہ قواعد پر حقیقی روح کے مطابق عمل کیا گیا؟

 2۔ دیگر ریاستی اداروں کی طرف سےکیا الیکشن کمیشن کو آئین کے مطابق آزادانہ کام کرنے دیا گیا؟

3۔ کیا عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور کارکنان کو یکساں مواقع ملے؟

 4۔ عام انتخابات کے حوالے سےکیوں ضابطہ اخلاق جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی؟

5۔ کتنے نتائج کا اعلان آدھی رات کے بعد کیا گیا اور وجوہات کیا تھیں؟

 6۔ سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو تحریری نتائج کیوں نہیں دیئے گئے؟

 7۔ آر ٹی ایس، آر ایم ایس سسٹم کیوں ناکام ہوا، اس کا پہلے تجربہ کیوں نہ کیا گیا؟

 8۔ انتخابات کی شفافیت اور آزادانہ انعقاد کے بارے میں کوئی بھی پہلو زیر غور لایا جاسکتا ہے۔

(الف) کمیٹی انتخابی کمیٹی، الیکشن کمیشن، نادرا انتخابی عملے، امیدواروں کو بلانے کی مجاز ہو گی۔

(ب) کمیٹی انتخابی عمل کے دوران ذمہ داری ادا کرنے والے اداروں کے حکام کو بلانےکی مجاز ہو گی۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں