’فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک کو پارلیمنٹ نے چلانا ہے یا خفیہ قوتوں نے‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد
loading...

مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم پر واقعہ فیض آباد پر دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو پارلیمنٹ نے چلانا ہے یا خفیہ قوتوں نے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا جانا محض الفاظ کی حد تک ہی محدود ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اس فرد کے نام پر رجسٹرڈ ہے جو دبئی کا رہائشی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس شخص کے پاس نائیکوپ بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس دھرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کے دوران پبلک پراپرٹی توڑی جاتی ہے پھر باہر ملکوں سے پیسے مانگے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان دھرنوں میں نقصان تو عوام کو بھرنا ہوتا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی سنہ2014 میں عام انتخابات میں دھاندلی کے نام پر دھرنے دیے تھے لیکن الزام ثابت نہیں ہوا تو کیا ان جماعتوں نے اپنے رویے پر عوام سے معافی مانگی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے تحریک لبیک پاکستان کے اکاؤنٹس کی معلومات کے بارے میں پوچھا گیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ اکاؤنٹس کی معلومات تک رسائی آئی ایس آئی کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ آئی ایس آئی کا مینڈیٹ ہے کیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق آئی ایس آئی نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس رپورٹ کو چیمبر میں پڑھا جائے جسے منظور کر لیا گیا۔

دھرنے کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کی بندش کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ اب ہم کنٹرولڈ میڈیا سٹیٹ میں رہ رہے ہیں
اس دھرنے کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کی بندش کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ اب ہم کنٹرولڈ میڈیا سٹیٹ میں رہ رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جو چینل ’ان‘ کی بات نہ سنے یا ’ان‘ کی پالیسی پر عمل درآمد نہ کرے تو اسے بند کرنے کے احکامات دیے جاتے ہیں جبکہ متعقلہ ادارے اس بارے میں نہ صرف ذمہ داروں کے نام بتانے سے خوف زدہ ہیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے وکیل سے استفسار کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ کتنے روز کونسا چینل آف ائر رہا جس پر پیمرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھیں جیو نیوز کی بندش کے بارے میں شکایت ملی تھی جس پر کیبل آپریٹرز کو جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پیمرا نے جیو سمیت کسی بھی چینل کو آف ائر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ لکھ کر دینے کو تیار ہیں کہ پیمرا نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ جو ادارہ ان افراد کے نام بتانے سے گھبراتا ہو جس نے ان چینلز کو آف ائر کیا ہے تو وہ ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن چینلز پر تعریف ہوتی ہے وہ چلیں جہاں نہیں ہوتی وہ بند کر دیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ اظہار رائے کی آزادی ہے؟

اُنھوں نے کہا کہ چینلز کو جھکانا ہے تاکہ آپ کی مرضی کی بولی بولیں اور یہ ہے پاکستان۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالیہ انداز میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں کونسی قوتیں ٹی وی چینلز کو ہدایت دیتی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ چینلز کی بندش سے متعلق پیمرا کی رپورٹ دھوکہ دہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور کی غیر حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل وزیر اعظم کے نہیں بلکہ ریاست کے ملازم ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس تھا جس میں وزیر اعظم نے اُنھیں طلب کیا تھا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان کو بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن سے متعلق دو روز پہلے وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے جس کا ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جماعت کے دھرنے کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور لوگوں کے معمولات زندگی متاثر ہوئے اس جماعت کے بارے میں بھی الیکشن کمیشن کو متعقلہ اداروں سے ابھی مذید معلومات درکار ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو جماعت لوگوں کو تشدد پر اکسائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں