غریب عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ

عوام

تحریک انصاف کی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 150 روپے تک گھٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔قبل ازیں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھاکہ اگر حکومت نے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا تو جنوری میں منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا کہ سعودی عرب سے جو تین بلین ڈالر پاکستان کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے ان پر پاکستان، سعودی عرب کو 3.18فیصد کی شرح سے سود ادا کرے گا، اس رقم میں سے نومبر میں ایک ارب ڈالر اور دسمبر میں اتنی ہی مالیت کی رقوم پاکستان آ چکی ہیں، تیسری قسط اگلے ماہ آئے گی۔سعودی عرب سے جو ادھار تیل خریدنے کا معاہدہ ہوا ہے اس کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس پر اگلے ماہ سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔
حالیہ دِنوں میں وزیر خزانہ اسد عمر اپنے انٹرویوز اور ٹاک شوز وغیرہ میں بھی جو باتیں کرتے رہے ہیں ان سے یہ تو عیاں تھا کہ وہ مزید ٹیکس لگانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اب انہوں نے بعض شعبوں کی نشاندہی بھی کر دی ہے،جن پر نئے ٹیکس لگ رہے ہیں ۔بجلی کے نرخوں میں1.27 روپے فی یونٹ کے حساب سے جو اضافہ کیا گیا ہے اس کا بہت وسیع اثر پڑے گا اور نہ صرف براہِ راست بجلی کے لاکھوں صارفین اس اضافے سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ جن مصنوعات کی تیاری میں بجلی استعمال ہوتی ہے، وہ بھی مہنگی ہوں گی۔

ان مصنوعات کا د ائرہ بہت وسیع ہے اِس لئے ابھی سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیر خزانہ کے نئے اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی کے سونامی کی ایک اور تندو تیز لہر آئے گی جو اگرچہ پہلے ہی بہت کچھ بہا کر لے جا چکی ہے،لیکن تازہ ریلا رہی سہی کسر بھی پوری کرتا ہوا نظر آتا ہے۔وزیر خزانہ مانیں یا نہ مانیں یہ سارے اقدامات تو آئی ایم ایف کے دربار میں سرخرو ہونے کے لئے ہی کئے جا رہے ہیں تاکہ قرضے کے لئے اگلے ماہ جو مذاکرات ہوں ان میں پاکستان کی طرف سے بتایا جائے کہ اپنے ذرائع آمدن بڑھانے کے لئے حکومت فلاں فلاں اقدامات کر چکی ہے۔

جب یہ رپورٹ پیش کر دی جائے گی تو ازراہِ لطف و کرم آئی ایم ایف مزید کچھ مطالبات بھی کرے گا۔ ممکنہ طور پر روپے کی قدر کو مزید کم کرنے پر اصرار کیا جائے گا اور روپے کو150 یا155روپے کے لگ بھاگ استحکام بخش دیا جائے گا، جس سے درآمدی اشیا کی مہنگائی کا ایک اور دور چلے گا اور یوں قرضے کے حصول تک ایک پورا چکر مکمل ہو چکا ہو گا۔معاشیات کے ماہرین جو آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے حق میں وزنی دلائل رکھتے ہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ قرض کے بعد افراطِ زر بڑھے گا اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہو گا۔ ایسے میں وہ لوگ اس صورتِ حال کا کیسے مقابلہ کریں گے، جو بیروزگار ہو گئے ہیں یا جن کی تنخواہوں میں کٹوتی ہو گئی ہے۔ اسد عمر سیاست میں آنے سے پہلے ایک بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رہے ہیں اگر ان کے پاس کوئی میجک فارمولا ہو تو وہ بھی بتا دیں تاکہ ٹیکس بڑھنے کے بعد کے سونامی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی سابقہ حکومت کی کرپشن اور معاشی بداعمالیوں کو کوستے ہوئے منی بجٹ کے ذریعے اس بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا اور اسے اصلاح احوال کیلئے ضروری اور اپنی مجبوری قرار دیا۔ اگر کچھ کمی رہ گئی تھی تو اسے دور کرنے کیلئے آئندہ ماہ کے پہلے پندھرواڑے میں اب دوسرا منی بجٹ لایا جا رہا ہے۔ یہ2018 میں عوام پرگرایا جانے والا تیسرا بجٹ بم ہو گا جو ملک کے مالیاتی مسائل حل کرنے کیلئے زیر غور ہے۔

اس سے عوام کی مالی مشکلات میں جو اضافہ ہو گا اس کا کچھ اندازہ وزیر خزانہ اسد عمر کی اس بریفنگ سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں دی۔ انہوں نے نئے منی بل میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں اضافے کی بات کی اور ان اقدامات کو اکنامک ایڈوائزری کونسل کی تجویز قرار دیا جس کا مقصد بعض اشیا پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں اضافے کے علاوہ بعض میں کمی بھی ہے تاکہ معیشت کا پہیہ رواں دواں رہے۔

انہوں نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ چکا ہے اس بحران پر قابو پانے کیلئے انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والے قرضوں اور سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور کہا کہ آئی ایم ایف سے معاشی اصلاحات پر ہمارے اختلافات ہیں، اچھا پروگرام ملنے تک پاکستان اس سے قرض نہیں لے گا اور دوستوں کے تعاون کو ترجیح دے گا۔

کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف قرض کیلئے اپنی تجویز کردہ اصلاحات پر ایک سال میں عملدرآمد چاہتا ہے جبکہ پاکستان تین سال کی مدت مانگ رہا ہے۔ نیا منی بجٹ لانے کی بڑی وجہ بھی یہی بتائی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف سے حکومت کے معاملات طے نہیں ہو سکے۔ مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے منی بجٹ کے ذریعے مزید مالی وسائل پیدا کئے جائیں گے جو نئے ٹیکسوں یا موجودہ ٹیکسوں میں اضافے کی شکل میں عوام سے وصول کئے جائیں گے۔

ٹیکسوں کے اضافی بوجھ کو اگر مہنگائی کے پہلے سے بڑھتے ہوئے طوفان کے تناظر میں دیکھا جائے اور ساتھ ہی نیپرا کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں تازہ اضافے کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس طوفان کے ساتھ گرانی کا ایک سیلاب بھی آجائے گاجو عوام کی قوت خرید کو تہس نہس کرکے رکھ دے گا۔خاص طور پر دہاڑی دار مزدوروں اور دوسرے غریب طبقوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو جائے گا۔

یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ عوام بہتری کی بڑی خواہشات اور امیدوں کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں لائے ہیں۔ اسے ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں جن سے مہنگائی بڑھیٹیکسوں کی بھرمار سے گرانی میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچتا ہے رواں مالی سال میں دو مرتبہ ٹیکسوں کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ چکی ہیں عوام مزید گرانی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس تناظر میں نئے منی بجٹ کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ حکومت کو اس حوالے سے سوبار سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانا ہو گا۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں