آشیانہ سکیم اوراگر کسی اورمنصوبے میں میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو جو چاہے سزا دے دینا

زینب قتل کیس

لاہور:    وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیب نے مجھے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے پیش ہونے کا نوٹس دیا،اگر چہ یہ نوٹس بدنیتی پر مبنی تھا تاہم اس کے باوجود میں نے قانون کی حکمرانی کیلئے نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ۔ اگر چہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ نیب کو سوالات کے جوابات لکھ کربھی بھجوائے جاسکتے ہیں اورمیں بھی اس قانونی سہولت کا سہارا لے سکتا تھا لیکن میں نے اسے مناسب نہ سمجھا اور تقریباً سوا گھنٹے تک نیب کے دفتر میں نیب ٹیم کے سوالات کے جوابات دےئے اور بڑے ادب و حترام سے سارے معاملات ان کے گوش گزار کیے۔

loading...

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آشیانہ سکیم اوراگر کسی اورمنصوبے میں بھی میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو جو چاہے سزا دے دینا لیکن یہ سنگین مذاق نہیں ہوناچاہیے۔احتساب کے نام پر سیاست اورانتقام کا سلسلہ بند ہونا چا ہیے۔اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ میں ایسے سنگین مذاق اوردھمکیوں سے ڈر کر عوام کی خدمت سے پیچھے ہٹ جاؤں گاتو یہ ان کی بھول ہے ۔ایسی کارروائیوں سے میں اورمیرے سیاسی رفقاء اورمیری ٹیم کبھی خوفزدہ نہیں ہوگی،یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن جھک نہیں سکتی۔

قانون کی حکمرانی کو دل سے تسلیم کرتا ہوں ، اسی لئے میں نیب کے بلائے جانے پر پیش ہوا ، اب مجھے نوٹس آیا تو قانون کی حکمرانی کیلئے پھر پیش ہوں گا لیکن اسے عوامی عدالت میں بھی لاؤں گا۔ وقت آئے گا راز کھول دوں گا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ میں چیئرمین نیب سے دل کی اتھا گہرائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میں انکوائری کیلئے تعاون کروں گا، جب بھی بلائیں گے آؤں گا لیکن اگر شفاف احتساب نہ ہوا تو خدا نحواستہ خونی انقلاب آئے گا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں