لاہور دھرنے کا فائدہ ہوا یا نقصان۔

loading...

نوید نسیم

لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے پھوکے دھرنے میں عمران خان اور آصف علی زرداری ایک ہی سٹیج پر جلوہ گر تو ہوئے۔ لیکن علامہ طاہر القادری کا منعقد کردہ دھرنہ نشست و برخاست ثابت ہوا۔

پاکستان عوامی تحریک کا منعقد کردہ دھرنہ پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت کے خلاف تھا یا حق میں۔۔۔ اس کا اندازہ دھرنے میں شریک ہونے والی عوام کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔

دھرنے میں شریک ہونے والی عوام نے بتا دیا کہ وہ اگلے عام انتخابات میں نواز لیگ کو ووٹ دیں یا نا دیں، لیکن وہ تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔

ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی 14 ہلاکتوں کے انصاف کے لئے علامہ طاہر القادری کا منعقد کردہ دھرنے نے ثابت کردیا کہ جس نواز حکومت کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس حکومت کو اس دھرنے کا نقصان نہیں، بلکہ فائدہ ہوا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ سے اجازت ملنے کے بعد دیئے جانے والے دھرنے میں چند ہزار افراد کی شرکت نے ثابت کردیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا گڑھ لاہور سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد بھی نواز لیگ کا ہی ہے۔

حیران کُن طور پر ماضی قریب میں عمران خان کے لاہور میں ہونے والے جلسوں میں عوام کا جمِ غفیر شرکت کرتا تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ دیئے جانے والے اس مشترکہ دھرنے میں عوام کے جمِ حقیر نے ثابت کردیا کہ لاہوری عمران خان کے جلسوں میں تو شریک ہوسکتے ہیں۔ لیکن عمران خان کا سابق صدر آصف علی زرداری اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ اتحاد ان کے لئے قابلِ ہضم نہیں۔

لاہور اور اسلام آباد میں علامہ طاہر القادری کے دھرنوں میں بھی عوام کی تعداد قدرے زیادہ ہوتی تھی۔ لیکن اس مشترکہ دھرنے میں علامہ طاہر القادری کے مریدین بھی اپنے روحانی پیشوا کا سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد انھیں بھی ناقابلِ قبول ہے۔

پنجاب میں اور خاص کر لاہور میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کو ڈھونڈنا تو اتنا ہی مشکل ہے۔ جتنا لاہور میں خالص دودھ ڈھونڈنا۔ اس کے باوجود بھی کہ کبھی لاہور سے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو منتخب ہوتے تھے۔ آج یہ حالات ہیں کہ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کا امیدوار پانچویں نمبر پر آیا۔ ایسے میں امید لگائی جائے کہ لاہور میں پیپلز پارٹی کے دھرنے میں جیالے شرکت کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان سے متعلق اچھے بیان کی امید لگانے کے مترادف ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اس مشترکہ دھرنے سے نواز لیگ کو فائدہ ہوا۔ وہ ایسے کہ اس دھرنے کی ناکامی نے نواز لیگ کی پریشانی کو دور کردیا کہ عوام سابق وزیراعظم کی نااہلی اور نیب میں چلنے والے ریفرنسز کی وجہ سے نواز لیگ سے منہ موڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ دھرنے نے ثابت کردیا کہ اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں اور خاص کر لاہور میں دونوں جماعتوں سمیت کوئی سیاسی جماعت بھی نواز لیگ کو تگڑا ٹاکرا نہیں دے گی اور نواز لیگ باآسانی پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے گی۔

روحانی مرید علامہ طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی 14 ہلاکتوں اور جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنااللہ کے استعفوں کا مطالبہ کیا گیا اور تحریک چلائی گئی۔ لیکن تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ دھرنہ حکومت کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ پہنچا گیا اور اب سابق صدر آصف علی زرداری اور عمران خان ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ حتی کہ دھرنے میں جزباتی ہو کر مستعفی ہونے والے شیخ رشید بھی قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے پشتا رہے ہیں۔ کیونکہ انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ اگر وہ مستعفہ ہو گئے تو حکومت ضمنی انتخاب کروائی گی۔ جسمیں اگر وہ کھڑے ہوئے تو گالیاں پڑیں گی اور اگر نا کھڑے ہوئے تو سیاسی نقصان ہوگا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں