لاہور کے رخسار کا تِل

لاہور

فاطمہ سی ایچ

برصغیر میں مغل دورِ حکومت کے ساتھ ہی فن تعمیر کا وہ سورج طلوع ہوا جو آج تک نہیں ڈوبا۔

اُس دور کے بے شمار شاہکاروں میں سے ایک مسجدِ وزیر خان ہے جسے لاہور کے رخسار کا تِل کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں سِول انجینئرنگ اور فائن آرٹس کو بڑی خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے۔ اپنی تعمیر کے تقریباً پانچ سو سال بعد بھی یہ مسجد ویسی ہی خوبصورت ہے۔

یہ مسجد پرانے لاہور میں دہلی گیٹ سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے۔

لاہور

مسجد کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اُس دور میں ۲۲ دکانوں پر مشتمل ایک بازار بنایا گیا جو آج پھیل کر کہاں کا کہاں جا چکا ہے۔
مسجد کا داخلی دروازہ مشرقی طرزِ تعمیر کا بے مثال نمونہ ہے۔

لاہور

پرانے لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں میں سے ہو کر مسجد کے وسیع و عریض صحن میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسے ذہن و خیال کی تنگ نظری کو اِک روشن وسعت ملی ہو۔

لاہور

آنکھوں کے سامنے پانچ خوبصورت گنبدوں پر مشتمل ایک عظیم و شان عمارت سر اُٹھاۓ کھڑی نظر آتی ہے۔

لاہور

یہاں عبادت میں صرف سروں کو جھکایا ہی نہیں جاتا بلکہ علم و آداب سے منور بھی کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کو مریم زمانی کی طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اِس عمارت میں ظاہری خوبصورتی ہی نہیں بلکہ تکنیکی خوبیاں بھی شاندار ہیں۔

لاہور

مسجد کا حُسن اِس کی تعمیر میں ہونے والی ٹائلوں اور اُن پر ہونے والی کاریگری سے عبارت ہے، اِن ٹائلوں پر عربی اور فارسی خطاطی بہت خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ تمام مسجد کے فنِ خطاطی کو یکجا کر کے سماء باندھ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں۔  حضرت عبداللہ شاہ غازی

لاہور

اِن ٹائلوں کی تراش اور خراش اور دیدہ زیب ڈیزائنز کی بدولت کِپلنگ یہ کہنے پرمجبور ہوگیا کہ یہ شاندار عمارت صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ اپنے آپ میں ایک مکمل سکول آف ڈیزائن ہے۔

مسجد میں ایک تہ خانہ ہے جس میں مشہور صوفی حضرت سید محمد اسحاق عُرف میران شاہ کا مزار ہے۔

لاہور

آپ رحمتہ اللہ علیہ ۱۳ ویں صدی عیسوی میں ایران سے یہاں تشریف لائے تھے۔ جس جگہ اُن کی قبر بنائی گئی تھی اُسی جگہ وزیر خان نے یہ مسجد تعمیر کر ڈالی۔ اِس محکمہ نے سخت محنت اور جاں فشانی سے اِس عمارت کو اِس کے روایتی حُسن اور عظمت کے ساتھ زندہ رکھا ہے۔ اس مسجد میں امن و سلامتی کے تمام پہلو موجود ہیں۔ یہاں خدا کے بندے کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اور جبین رگڑتے ہیں۔

 یہاں کی آزاد کی فضاؤں میں پرندے امن کے نغمے گاتے ہیں، یہاں محبت کا آبِ حیات ملتا ہے۔

لاہور

یہ لاہور کے رخسار کا تِل ہے، یہ مسجدِ وزیر خان ہے۔
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں