مجھے خفیہ ادارے کے ملازم کی طرف سے مستعفی ہونے یا لمبی چھٹی پر جانے کا پیغام پہنچایا گیا، نواز شریف کا احتساب عدالت میں بیان

سابق وزیراعظم نوازشریف

مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھایا گیا ٗدھمکی نما مشورہ دیا گیا بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کر دو،  نوازشریف

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے راستے پر شرپسند عناصر بٹھا دئیے گئے، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے، استغاثہ میرے خلاف کیس ثابت نہیں کر سکا، مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مسلح افواج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، فوج کی کمزوری ملکی دفاع کی کمزوری ہوتی ہے، قابل فخر ہیں وہ بہادر سپوت جو سرحدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں ٗسابق وزیراعظم مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھایا گیا، دھمکی نما مشورہ دیا گیا بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کر دو۔
آصف علی زرداری کے ذریعے پیغام دیا گیا پرویز مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے، میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ، اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جا بجا ملیں گے، خفیہ ادارے کے افسر کا پیغام پہنچایا گیا مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلے جاؤ، مجھے اس کا دکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچا رہا ہے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ سارے ہتھیار اہل سیاست کیلئے بنے ہیں، جب بات فوجی آمروں کیخلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے ٗ2014 کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا، جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے ٗ پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سے کچھ محفوظ نہ رہا، مقصد تھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔

مزید پڑھیں۔  انگرو فوڈز ٹینس چمپئن شپ کے ڈراز کا اعلان(کل)کیاجائیگا
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں