زندگی کا وجود پانی کے ساتھ ہے اور پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ

لندن: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیم کی تعمیر سے کوئی نہیں روک سکتا، کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔

ڈیم کے لیے لندن میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے میں پتا چلا کہ صوبوں میں اتفاق نہیں ہے تو سوچا کہ چلو بھائیوں میں تفرقہ ڈالنا مناسب نہیں، لیکن دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تمام صوبوں کا اتفاق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیم کیوں نہیں بنے، اس سلسلے میں غفلت کس کی تھی آج پتا چل گیا، اب دریائے سندھ پر بھی بیسیوں ڈیم بنیں گے ۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پانی 2 ہزار فٹ پر ہے اور اگر پانی کا مسئلہ فوری حل نہ ہوا تو لوگوں کو منتقل ہونا پڑسکتا ہے۔

loading...

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں، عہدے سے رخصت ہوکر وہ فلاحِ انسانیت ہی کا کام کریں گے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس اِن دنوں برطانیہ کے نجی دورے پر ہیں جہاں مختلف شہروں میں فنڈ ریزنگ تقاریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پاکستان سےعشق کرتے ہوں، آج تقریب میں بڑی تعداد میں ملک سےعشق کرنے والوں کو دیکھ رہا ہوں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ملک کے ساتھ قائداعظم جیسا عشق کرنے والوں کی ضرورت ہے، سمندر پار پاکستانی ملک کے سب سے بڑے عاشق ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ببانگ دہل کہتا ہوں میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں، فلاح انسانیت ہی میرا اولین مقصد ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد صرف فلاح انسانیت کے لیے کام کروں گا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں