سوشل میڈیا کا بھلا ہو ! ..

سوشل میڈیا
loading...

ویسے تو سوشل میڈیا کو فیک نیوز کا قبرستان ہی سمجھنا چاہئیے جہاں پر بڑی سے بڑی خبر کو بھی جھوٹ سمجھ کر چھوٹی سی قبر میں دفنا دیا جاتا ہے یعنی کہ اسکو کسی خاطر میں لائے بغیر ہی ناظرین نظر انداز کر دیا کرتے ہیں۔

جبکہ کبھی کبھار چھوٹی سے چھوٹی خبر کو بھی کھرا سچ سمجھ کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خبر چند سیکنڈز میں کروڑوں لوگوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے جو کہ کبھی کسی کی بدنامی کا باعث بنتی ہے تو کبھی کسی کی اچھی شہرت کا باعث بن جاتی ہے۔

جب سے ٹیلی کام سیکٹر نے ترقی کی ہے یعنی موبائل اور انٹرنیٹ نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں تو ہر جگہ ہی میڈیا کی کوریج کے اندر آ گئی ہے۔

جہاں پر ٹی وی کیمرا اور صحافی نہیں پہنچ سکتا وہاں پر بھی اب سینکڑوں کیمرے اور صحافی موجود ہیں۔دنیا کے ہر کونے سے نت نئی خبریں ، واقعات اور حادثات منظر عام پر آرہے ہیں۔

لوگوں کے لیے کسی بھی ایسی خبر کی اشاعت پہ چند لمحے درکار ہوتے ہیں ، بس مذکورہ خبر کی تصویر یا وڈیو کو فیس بک ، واٹس ایپ یا پھر ٹویٹر کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلا دینا انتہائی آسان ہے۔ بعض اوقات کسی مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے تو بعض اوقات کسی کی خاص صلاحیت کو شہرت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر حکومت وقت یعنی کسی بھی ملک کا سربراہ مذکورہ مسئلے کو سنجیدہ لے لے تو وہ حکومت کے لیے ‘‘ Turning Point ‘‘ بھی بن سکتا ہے۔ اسکی کئی ایک مثالیں پاکستان کے اندر موجود ہیں مثلاً قصور میں چھے سالہ بچی زینب کا زیادتی کے بعد قتل اور بعد ازاں قاتل کی گرفتاری سے لے کر پھانسی تک کا عمل سوشل میڈیا پر زندہ رہا ، یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ قتل کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سوشل میڈیا کا کلیدی کردار رہا ہے۔

اس کے علاوہ مشہور زمانہ چائے والے کی دنیا بھی میں شہرت کی بات ہو یا پھر ڈْگڈگی بجانے والی دو بہنوں (Justin sisters) کے گانوں کی پزیرائی ہوسب ہی سوشل میڈیا کے شکرگزار ہونگے جو کہ اْنہیں گمنامی کی زندگی سے شہرت کی رنگین دنیا میں لے آیا۔

پچھلے دنوں لاہور کے مال روڈ پر ایک غریب شخص کی اپنے دو کمسن بچوں کے ساتھ رات کو شدید سردی میں سوتے ہوئے تصویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو یہ تصویر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اور یوں عمران خان نے بھی یہ تصویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی اور کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مہذب معاشرہ نہں کہلا سکتا جب تک کہ اس میں بے سہارہ لوگوں کے لیے رحمدلی اور ہمدردی نہ ہو۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان نے ملک بھر میں ‘‘ پناہ گاہ ‘‘ کے نام سے غریب اور نادار افراد کے لیے Shelter Homes تعمیر کرانے کا اعلان کیا اور سب سے پہلے لاہور میں مذکورہ منصوبے کا افتتاح بھی کر دیا۔ وزیراعظم نے لاہور میں پانچ مقامات جن میں ریلوے اسٹیشن ، چوبرجی ، اچھرہ ، داتا دربار اور شاہدرہ شامل ہیں پر ‘‘ پناہ گاہ ‘‘ تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔

لاہور شہر جو کہ پاکستان کا دل بھی کہلاتا ہے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی لوگوں کے لیے بذات خود ایک پناہ کی حیثیت رکھتا ہے مگر آبادی اور غربت میں اضافہ کی وجہ سے رات کو جگہ جگہ فٹ پاتھوں ، پارکوں اور سڑکوں پر چھوٹے بچے ، بوڑھے اور محنت مزدوری کرنے والے افراد جو کہ رہنے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سوئے نظر آتے ہیں جو کہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔

یقیناً اگر کوئی دردِ دل رکھنے والا حکمران ہو تو اسکے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اسکی ریاست میں اگر غریب اور مفلس لوگ ہی بدحال ہیں تو اسکے اقتدار میں رہنے کا کوئی بھی مقصد نہیں ہے۔ عمران خان چونکہ پہلے سے ہی رفاحی کاموں سے منسلک ہیں اس لیے انکا ماننا ہے کہ انہیں غریب طبقات کے لیے اقدامات کر کے دلی خوشی ہوتی ہے۔

یہ سوشل میڈیا کا ہی کمال ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے حکمرانوں کے دلوں میں انسانیت کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں جناب عمران خان نے پنجاب حکومت کو عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی کے لیے جدید طریقہ کار اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور اگلے دس دنوں تک غربت کے خاتمے کے لیے پیکج دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی خبروں پر نہ صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب سو موٹو ایکشن لیتے رہیں ہیں بلکہ کئی ایک واقعات میں حکومتی سطح اور مخیر افراد کی طرف سے بھی متاثرہ افراد یا مستحق افراد کی امداد کی جاتی رہی ہے جو کہ یقیناً زندہ معاشرے کی ایک مثال ہے۔

یہ ایک بہت ہی مثبت بات ہے کہ اگر تمام سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے لوگ اس کا یعنی سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں تو بہت سارے ایسے مسائل ہیں جو کہ حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں نہ صرف منظر عام پر آ سکتے ہیں بلکہ بروقت اور مناسب اقدامات سے حل بھی کیے جا سکتے ہیں۔

بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس خداداد صلاحتیں موجود ہیں مگر وہ کبھی بھی لوگوں کی نظروں میں نہ آ سکے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے لوگوں کی صلاحیتوں کو دنیا میں آشکار کرانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں کروڑوں لوگوں کو دوسرے وقت کا کھانا میسر نہیں ہے ، جہاں کروڑوں لوگوں کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر نہیں ہے اور جہاں پہ لاکھوں کی تعداد میں خاندان مختلف قسم کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کا علاج تو ممکن ہے مگر وہ اس قابل نہیں ہیں کہ علاج کے اخراجات برداشت کر سکیں۔

مگر کئی ایک واقعات ایسے ہیں کہ جو میڈیا پر یا سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک اور ایوانوں تک پہنچے اور انہیں حل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ وہ اپنی ایک ایسی سوشل میڈیا ٹیم تشکیل دیں جو کہ عوام کے بنیادی حقوق کی نشاندہی کرے۔

تاکہ حکومتی سطح پر عام اور پسے ہوئے طبقات کا احساسِ محرومی دْور کرنے میں مدد ملے اور عمران خان کے مدینہ کی فلاحی ریاست کے وڑن کو بھی پورا کرنے میں آسانی ہو۔

(امجد طفیل بھٹی)
Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں