پاکستان سے چائنہ بزریعہ بس سروس

loading...

عمردراز ننگیانہ

پاکستان سے اس سفر کے خواہاں افراد کے لیے کچھ عرصہ قبل تک ہوائی سفر ہی واحد ذریعہ تھا تاہم اب زمینی راستہ بھی ایک آپشن بن گیا ہے جب چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت پہلی مسافر بس کا آغاز کیا گیا ہے۔

نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک نامی کمپنی کے تحت چلنے والی بس پاکستان کے شہر لاہور کو چین کے تاریخی شہر کاشغر سے ملائے گی۔

اس سلسلے کی ابتدائی بسیں اپنے آزمائشی سفر مکمل کر چکی ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے دلفریب علاقوں سے گزرتی یہ بس سوست کے مقام پر سرحد عبور کرتی چین میں داخل ہوتی ہے۔

ایک طرف کا یہ سفر لگ بھگ 36 گھنٹے جبکہ مجموعی طور پر دو طرفہ سفر تقریباٌ 72 گھنٹے پر محیط ہے۔ بس پر سوار ہونے سے قبل ضروری سفری دستاویزات یعنی ویزہ وغیرہ ہونا ضروری ہے۔

گو کہ سی پیک روٹ پر چلائے جانے والی یہ بس جدید طرز کی ہے، پھر بھی کیا بس کی سیٹ پر اس قدر طویل سفر کیا آسان ہو گا؟ جہاز پر لاہور سے چین کے دارالخلافہ بیجنگ کا سفر تقریباً آٹھ گھنٹے میں کیا جا سکتا ہے۔

سیاحت کی غرض سے جانے والوں کے لیے شاید یہ سفر طویل اور کٹھن نہ ہو، مگر بس کمپنی کے مطابق یہ سروس کاروباری افراد کو سامنے رکھ کر چلائی گئی ہے۔

ایک کاروباری شخص کے پاس اتنا وقت ہو گا؟ وہ اس قدر طویل سفر کیوں اختیار کرے گا جبکہ وہ کچھ پیسے زیادہ خرچ کر کے ہوائی جہاز کی سہولت میسر ہے؟

اگر کاروباری افراد اس کا استعمال نہیں کرتے تو کیا یہ بس سروس کاروباری طور پر قابلِ عمل ہو گی؟ کیا ایک لمبے عرصے تک اس بس کو چلانا ممکن ہو گا؟ ایسے تمام خدشات یا ان کی نفی چند بنیادی سوالوں کے جوابات اور ابتدائی مراحل کے نتائج کے گرد گھومتی ہے؟

بس پر کون سفر کر رہا ہے؟

این ایس ٹی این کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسافر بس سروس کی پاکستان کی تاجر برادری میں کافی مانگ تھی۔‘

ان کا دعوٰی ہے کہ ’ابتدائی دو بسوں میں چین جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق تاجر طبقے سے تھا۔‘ محمد انور کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی طلبا کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اس بس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔

’سیاح بھی ہمارے پاس کافی آ رہے ہیں تاہم سب سے پہلے نمبر پر کاروباری افراد ہیں جو پاکستان اور چین کے درمیان سفر کرنا چاہتے ہیں۔‘

لاہور سے حال ہی میں روانہ ہونے والی دوسری بس میں مقامی تاجر کاظم سوانی پہلا سفر کر رہے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بس انتہائی سستی پڑے گی۔‘

لاہور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے دلفریب علاقوں سے گزرتی یہ بس سوست کے مقام پر سرحد عبور کرتی چین میں داخل ہوتی ہے
کیا بس ہوائی جہاز کو پیچھے چھوڑتی ہے؟

کاظم سوانی کپڑے کی صنعت میں استعمال ہونے والے رنگ اور کیمیائی اجزا وغیرہ کی درآمد کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا چین آنا جانا لگا رہتا ہے۔ بس کے ذریعے وہ اپنا سفری خرچ کم کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

وہ آزمائشی طور پر پہلا سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر بس معیاری ہو اور یہ سفر آرام دہ ہو تو میں کافی پیسے بچا سکتا ہوں۔‘

این ایس ٹی این کے چیف ایگزیکیوٹو آفیسر محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ سی پیک بس کا یکطرفہ کرایہ 13 ہزار جبکہ ریٹرن ٹکٹ 23 ہزار رکھا گیا ہے۔

کاظم سوانی کا کہنا تھا کہ اس طرح وہ ہر دورے پر 50 سے 60 ہزار روپے بچا سکتے ہیں۔ ’ویسے چین تک ہوائی جہاز کا ٹکٹ آپ کو 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے میں پڑتا ہے۔‘

مگر اس کے لیے انھیں 72 گھنٹے بھی تو بس میں گزارنا ہوں گے؟

بس کے عقبی حصے میں دو بیڈ بھی نصب کیے گئے ہیں

یہ بس کتنی آرام دہ ہے؟

سی پیک کے اس روٹ پر چلائے جانے والی یہ بس چین کی ہی ایک کمپنی کی تیارکردہ ہے۔ ایک وقت میں اس میں 36 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔ بس میں دونوں جانب دو، دو نشستیں لگائی گئی ہیں جو زیادہ کشادہ نہیں ہیں۔

تاہم سیٹ کو چند سینٹی میٹر باہر کی طرف کھولا اور اسے پیچھے جھکا کر لمبا بھی کیا جا سکتا ہے۔ بس کے عقبی حصے میں دو بیڈ بھی نصب کیے گئے ہیں جن پر بیک وقت دو افراد کے لیٹنے کی گنجائش ہے مگر سوال یہ ہے کہ 36 گھنٹے کے سفر میں 36 مسافروں میں سے کتنوں کو کمر سیدھی کرنے کا کتنا موقع مل پائے گا؟

بس میں کیا نہیں ہے؟

ایک لمبے زمینی سفر کے لیے درکار ضروریات میں سب سے بنیادی سہولت جو بس پر میسر نہیں وہ بیت الخلا یا غسل خانے کی ہے تاہم محمد انور کے مطابق ’سفر کے دوران بس مقررہ مقامات پر رکے کرے گی جس دوران مسافروں کو کھانے پینے، نماز اور رفع حاجت وغیرہ کا موقع ملے گا۔‘

بس کے اندر مسافروں کی تفریح کا بھی کوئی خاطر خواہ بندوبست نظر نہیں آیا۔ جدید طرز کی بسوں میں سیٹوں کے عقب میں سکرینین نصب ہوتی ہیں جن پر مسافر تفریح کا سامان کر سکتے ہیں۔

تاہم کمپنی کے آپریشنز مینیجر قمر اعجاز کے مطابق ہر بس پر وائی فائی کے علاوہ موبائل فون کو چارج کرنے کی سہولت موجود ہے۔

بس میں سکیورٹی کے لیے کیمرے لگائے گئے ہیں اور ایک مسلح محافظ بھی تعینات ہے

کیا بس محفوظ ہے؟

ہر بس کے اندر چار سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ قمر اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کے ان کیمروں کی مدد سے ہمہ وقت کمپنی کے کنٹرول روم سے بس کے اندر اور باہر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

’سیٹلائٹ کی مدد سے بس کی تقل و حرکت کو بھی سفر کے آغاز سے اختتام تک دیکھا جاتا ہے۔‘

ان سہولیات کے علاوہ بس پر ایک مسلح سکیورٹی گارڈ بھی تعینات کیا گیا ہے۔ بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق سی پیک کی وجہ سے بس کو مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی۔ بس میں ایک اضافی ڈرائیور بھی موجود ہو گا۔

این ایس ٹی این کے چیف ایگزیکیوٹو آفیسر محمد انور کے مطابق بس پر دوران سفر کسی شخص کو بس میں سوار ہونے یا اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ’صرف وہی شخص اس پر سفر کر پائے گا جس کے پاس چائنہ کا ویزہ اور دیگر ضروری سفری دستاویزات مکمل ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا پاکستان اور چین دونوں حکومتوں نے انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

سی پیک کے اس روٹ پر چلائے جانے والی یہ بس چین کی ہی ایک کمپنی کی تیارکردہ ہے

کاشغر ہی کیوں؟
لاہور سے چلنے والی بس پر راولپنڈی سے بھی مسافر سوار ہو سکیں گے۔ اس کے بعد وہ کاشغر پر ہی رکتی ہے۔ راستے میں آنے والے دلکش مناظر سے بس کے اندر سے یا پھر مختصر وقفے کے مقامات ہی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

محمد انور کا کہنا تھا کہ چین میں کاشغر کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ وہ ایک کاروباری مرکز ہے۔ ’کاشغر میں ریل اور ہوائی سفر سمیت مواصلاتی نظام موجود ہے۔ تجارتی اعتبار سے وہ اہمیت کا حامل ہے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تاجر جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق پاکستان سے کاشغر کوئی جہاز نہیں جاتا۔ تاہم وہاں سے چین کے دیگر شہروں تک رسائی انتہائی آسان بھی ہے اور سستی بھی۔ ’ہم نے اس کے تجارتی طور پر قابلِ عمل ہونے کا مکمل حساب کر رکھا ہے جو منافع بخش ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کی طرف سے ملنے والا ابتدائی ردِ عمل ’مثبت اور تسلی بخش ہے۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

Spread the love
  • 68
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں