مردان: پولیس نے عاصمہ قتل کیس میں ڈی این اے کیلئے 200 افراد کے نمونے لے لیے

13 سالہ طیبہ کو بھائی نے زیادتی کر کے قتل کر دیا

مردان: پولیس نے عاصمہ قتل کیس میں ڈی این اے کیلئے 200 افراد کے نمونے لے لیے

4 سالہ عاصمہ کو زیادتی کے بعد کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا، پولیس نے ڈی این اے کیلئے 200 افراد کے نمونے لے لیے
پولیس نے  قتل  اور زیادتی میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے اقدامات کرتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے 200 افراد کے نمونے حاصل کرلیے۔ 15 جنوری کے روز مردان 4 سالہ بچی عاصمہ سے زیادتی کی گئی جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوئی۔ اسی حوالے سے 17جنوری کو ضلعی ناظم نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 روز قبل یعنی 15 جنوری کو قتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی بچی سے زیادتی کی گی تھی۔  جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر  مردان میاں سعید کا مؤقف تھا کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ریپ کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔

loading...

یاد رہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عاصمہ کی مردان میں واقع رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ تاہم خیبرپختونخوا پولیس اب تک عاصمہ کے قاتلوں کو گرفتاری نہیں کرسکی اور اس حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ کیا جارہا ہے۔پشاور پولیس کے مطابق عاصمہ کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے 200 افراد کےنمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جبکہ فورنزک رپورٹ آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق کیس میں تفتیش کیلئے ماہر نفسیات کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور مقتولہ عاصمہ کے قریبی رشتے داروں سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں