راؤ انوار کون ہے؟

راؤ انوار
loading...

یہ کالم تجزیہ نگار مظہر عباس کی جانب سے جیو نیوز کے لیے لکھا گیا ہے۔

راؤ انوار سے میری پہلی ملاقات 80ء کی دہائی میں گلشن اقبال پولیس اسٹیشن میں ہوئی جہاں وہ اس وقت ایس ایچ او کی حیثیت سے تعینات تھے۔ یہ شاید اس کی سندھ پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی کے بعد پہلی پوسٹنگ تھی۔ اسے ایک متنازع پولیس افسر بننے اور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کی شہرت حاصل کرنے میں کئی سال لگے۔

اس کی کہانی، پروفائل، پھر گرفتاری اور اس کی پوری پولیس میں گزرنے والی زندگی ایک خاص ’ذہنیت‘ کی عکاس ہے جو کہ ہمارے ناقص پولیس اور سیاسی نظام میں پائی جاتی ہے۔صرف کچھ برسوں کی سروس کے بعد اس نے اچھی پوسٹنگز، ترقی اور انعامات حاصل کرنے کے طریقے اور ذرائع جان لیے۔

گزشتہ تین دہائیوں میں اس نے نہ صرف اپنی مرضی کی ترقیاں اور پوسٹنگز حاصل کیں بلکہ اپنی ’کارکردگی‘ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے انعامات بھی حاصل کیے۔

شاید، اس کام کے دوران وہ بہت آگے نکل گیا اور اس نے ’شارٹ کٹس‘کے ذریعے سیاسی تعلقات بنا لیے جس نے اسے ڈی آئی جیز اور آئی جی پولیس سے بھی زیادہ طاقتور بنا دیا۔ اس کا خیال ہے کہ اس نے 90ء کی دہائی میں ایم کیو ایم کے ساتھ دشمنی قائم کی اور گزشتہ کچھ عرصے کے دوران القاعدہ اور طالبان بھی اس کے دشمن بن گئے ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ کچھ ’جعلی مقابلوں‘ کا دفاع کرتا ہے۔

ان سالوں میں راؤ انوار نے جو بھی کیا وہ پاکستان کے عدالتی نظام کے زوال کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ یہاں ٹارگٹ کلنگ یا متنازع انکاؤنٹرز دہشت گردی سے چھٹکارے کے عذر کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سندھ میں پولیس اور دیگر محکمے کس حد تک ’سیاست زدہ‘ ہیں تو آپ صرف کچھ ہائی پروفائل دعوتوں اور نجی محفلوں میں شرکت کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کون کیا ہے؟ آپ کو بیوروکریٹس، سیاستدانوں، اور دیگر افراد کے فرنٹ مینوں سے متعلق پتا چل جائے گا۔

یقیناً ’جعلی مقابلوں‘ کے حوالے سے شہرت رکھنے والے صوبہ پنجاب میں بھی یہی مشق جاری ہے۔

جب راؤ انوار جونیئر افسر تھا تو اسے اس کے ایس ایس پی نے ناظم آباد میں ایک بڑا اڈا چلانے والے مشہور منشیات فروش اور جواری کے خلاف کارروائی کرنے سے منع کیا تھا۔ اسی افسر نے اسے بتایا تھا کہ اگر وہ ترقیاں اور اچھی تعیناتیاں چاہتا ہے تو اسے حکمرانوں اور اہم اداروں کے قریب ہونا پڑے گا۔

میرے لیے یہ ہرگز حیران کن نہیں ہوگا اگر اس کے اثاثوں کی مالیت اربوں میں نکلتی ہے۔ اگر صرف 1992 سے 1995 تک کے اسے ملنے والی انعامی رقم کی تفصیلات نکال لی جائیں تو صرف وہی حیران کن ہوں گی۔

وہ ایسا کرنے والا اکیلا نہیں ہے اور یہ بات بھی غلط ہو گی کہ ہم صرف ایک یا دو پولیس افسران کی بات کریں۔ اگر 80ء کی دہائی میں پولیس افسران ڈیفنس اور کلفٹن میں 2 ہزار مربع گز کے بنگلے اور بی ایم ڈبلیوں گاڑیاں رکھ سکتے ہیں تو اگر راؤ انوار کے پاس ملک میں اور بیرون ملک جائیداد ہے تو یہ ہرگز حیران کن نہیں ہے۔

راؤ انوار صرف واحد ایسا کردار بھی نہیں ہے جس نے اپنی دھاک بٹھانے اور سندھ پولیس کا طاقتور پولیس افسر بننے کے لیے ’جعلی مقابلے‘ کیے ہوں۔ مرحوم چوہدری اسلم 90ء کی دہائی کا ایک ایسا ہی افسر تھا جس نے ’انکاؤنٹرز‘ کے ذریعے اپنا اثر قائم کیا تھا۔ آج راؤ انوار کو نوجوان نقیب اللہ محسود اور دو دیگر افراد کو ’جعلی مقابلے‘ میں قتل کرنے کے کیس کا سامنا ہے۔ نقیب اللہ کا بظاہر کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

راؤ انوار کے نام کے ساتھ متعدد مرتبہ ’انکاؤنٹر‘ کا لفظ لکھا گیا مگر شاید ہی کبھی اسے اس حوالے سے کسی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اب بھی اکثر لوگوں کو امید نہیں ہے کہ اس سے کسی قسم کی تفتیش ہو گی۔ نقیب اللہ اور اس کے خاندان کے بارے میں اس کا اندازہ یقیناً غلط نکلا اور متعدد دیگر محسود اس سے متاثر ہوسکتے تھے۔

چنانچہ، راؤ انوار ایک فرد نہیں بلکہ وہ سندھ پولیس کی سوچ کا عکاس ہے جہاں سے اس نے موجود نظام کے تحت طاقت اور ’انکاونٹر اسپیشلسٹ‘ ہونے کی شہرت حاصل کی۔ یہ ایسا نظام ہے جو کہ ماورائے عدالت قتل کو نہ صرف جائز قرار دیتا ہے بلکہ ماضی میں پولیس افسران کے ان غیرقانونی اقدامات پر خاموش بھی رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے خصوصی احکامات کے بعد اس کی گرفتاری یا ہتھیار ڈالنا طے تھا لیکن ‘پولیس مقابلوں’ کی تحقیقات اور ٹرائل اس بات کا تعین کرے گا آیا راؤ انوار کا ہتھیار ڈالنا کسی زبانی سمجھوتے کی بنیاد پر ہوا یا نہیں۔ اس معاملے سے جڑے ایک ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ اس سے صرف نقیب اللہ محسود کے قتل اور اس سے جڑے حالات کی تحقیقات کی جائیں گی۔ نقیب اللہ محسود اور دو دیگر افراد کے قتل کے پیچھے محرکات کیا تھے۔

دیگر کئی مقابلوں کی طرح راؤانوار نے ابتدا میں نقیب اللہ کی ‘مقابلے’ میں ہلاکت کو بھی پولیس کی کامیابی قرار دیا اور الزام لگایا کہ نقیب اور دیگر دو افراد ‘دہشت گرد’ تھے۔ جب محکمہ انسداد دہشت گردی کے ڈی آئی جی ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں پہلی جے آئی ٹی بنائی گئی تو راؤ انوار نے اسے بتایا تھا کہ نقیب اللہ کئی جرائم میں انہیں مطلوب تھا لیکن تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ انکاؤنٹر جعلی تھا۔

اس وقت راؤانوار ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر غائب ہو گیا اور پھر ایک بیان جاری کیا کہ اسے جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں ہے۔ اب راؤ انوار کے ہتھیار ڈالنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے سینئر پولیس افسر آفتاب پٹھان کی سربراہی میں ایک نئی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے لیکن راؤ انوار کو پولیس کی خصوصی سیکیوٹی ملنے پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

1994 میں ’جعلی مقابلے‘ جب سابق وزیرداخلہ مرحوم لیفٹیننٹ جنرل نصیر اللہ بابر کے دور میں ریاستی پالیسی تھے تو درجنوں پولیس افسران ایسا کرچکے ہیں۔ اس وقت ایم کیو ایم کے سیکڑوں مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔ یہ پالیسی کبھی ترک نہیں کی گئی اور طالبان کے خلاف آپریشن اور مذہبی و لسانی گروہوں کے عسکریت پسندوں کے خلاف بھی جاری رہی۔

سابق آئی جی سندھ افضل شگری صرف واحد پولیس افسر تھے جنہوں نے اس پالیسی کا حصہ بننے سے انکار کیا جس کی بنیاد پر ان کا کراچی سے ٹرانسفر بھی ہوا۔ان کا مؤقف تھا کہ اگر ریاست دہشت گردوں کو قانونی طریقے سے سزا دلوانے کے بجائے ان کی مقابلوں میں ہلاکت پر آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائے گی تو پولیس افسران اس کا غلط استعمال شروع کر دیں گے۔

ان کا مؤقف بالکل بھی غلط نہیں تھا کیونکہ متعدد بے گناہ افراد اور سیاسی کارکن دہشت گرد اور جرائم پیشہ ہونے کے الزام میں مار دیے گئے۔

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پولیس سروس میں راؤ انوار سیاسی اور غیر سیاسی طاقتوں کی آنکھوں کو تارہ بن گیا۔ راؤ انوار سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی مرحوم منور سہروردی کے قریب ہوئے۔ اس سے وہ پی پی پی کے دیگر رہنماؤں کے بھی قریب ہوتے چلے گئے اور پولیس افسران کے اندر انہیں، وسیم احمد اور دیگر کی طرح پی پی پی کا آدمی کہلایا جانے لگا۔

یہ افسران پی پی پی مخالف حکومتوں کے ادوار میں سائڈلائن بھی کیے جاتے رہے۔

1990 کا سال راؤ انوار کے لیے اس وقت نقطہ عروج ثابت ہواجب کہ ’وینا حیات‘ کا واقعہ پیش آیا اور پی پی پی نے اس کا الزام جام صادق علی کی حکومت، ان کے وزیر داخلہ عرفان اللہ مروت اور اس وقت کے ڈی آئی جی سی آئی اے سمیع اللہ ماور پر لگایا۔

راؤ انوار نے مبینہ طور پر غیرقانونی اور پی پی پی مخالف سرگرمیوں کے ثبوت پی پی پی کی قیادت کو فراہم کیے تھے۔

جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے اپنے دوسرے دور حکومت میں سابق صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اختلافات پیدا ہوا ہوئے تو انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شفیق الرحمٰن کی سربراہی میں اپنی انسپکشن ٹیم کو اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی اور غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت اور ڈی آئی جی سی آئی اے سمیع اللہ مروت کی غیرقانونی سرگرمیوں کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کی تحقیقات کے لیے بھیجا۔

لیکن جام صادق نے وزیراعظم کی ٹیم کو فائیو اسٹار ہوٹل سے باہر بھی نہیں نکلنے دیا۔ پی پی پی نے نواز شریف کے اقدام کی حمایت کی اور راؤ انوار ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے سندھ حکومت کی مخالفت کے باوجود تفتیشی ٹیم کی معاونت کی، انہیں شواہد فراہم کیے، متاثرین جن میں ائیرہوسٹس لڑکیاں، اغوا برائے تاوان وغیرہ کا شکار ہونے والی کاروباری شخصیات کے انٹرویوز بھی کروائے۔ ایک رات وہ انہیں خاموشی سے سی آئی اے سینٹر بھی لے کر گئے۔

بعدازاں راؤ انوار ہی وہ شخصیت تھے جن کی وجہ سے سمیع اللہ مروت گرفتار ہوئے اور بعد ازاں پی پی پی کے دوسرے دور حکومت میں ملازمت سے برخاست بھی کر دیئے گئے۔ اس موقع پر جب راؤ انوار کو پی پی پی کی حکومت نے نوازا۔

جب تک پی پی پی کی حکومت قائم ہوئی راؤ انوار پولیس اور حکومتی سرکلز میں ایسے افسران کے طور پر پہچانے جانے لگے جو کہ پی پی پی قیادت کے انتہائی قریب تھے۔

جب 1994 میں پولیس آپریشن کا آغاز ہوا اور آرمی کو واپس بلا لیا گیا تو راؤ انوار سمیت درجنوں دیگر پولیس افسران نے ایم کیو ایم کے مبینہ عسکریت پسندوں کا پتہ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر اقدامات کیے۔کئی پی پی پی مخالف جماعتوں اور بعض میڈیا نے ان اقدامات اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی بھرپور حمایت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ عسکریت پسندی کو ختم کرنے کا واحد یہی راستہ بچا ہے۔

لیکن کچھ ایسے پولیس افسران بھی تھے جن کا خیال تھا کہ اس پالیسی نے کچھ افسران کو نہ صرف قانون سے بالاتر بنا دیا ہے بلکہ انہیں ان کے افسران سے بھی زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔

کئی پولیس افسران کو بعد میں مشتبہ حالات میں قتل کر دیا گیا اور حکام نے الزام عائد کیا کہ وہ 1994-95 کے آپریشن میں حصہ لینے پر ایم کیو ایم کے عسکریت پسندوں کا شکار بنے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں طالبان، القاعدہ اور دیگر فرقہ وارانہ جماعتوں پر بھی یہ الزامات لگائے گئے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے پولیس افسران کے قتل میں ملوث ہیں۔

اس لیے یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ راؤ انوار کی قسمت کا کیا فیصلہ ہوتا ہے لیکن ایک بات یقینی ہے یہ شخص بہت کچھ جانتا ہے لیکن شاید وہ اس حوالے سے اپنا منہ اس وقت تک نہیں کھولے گا جب تک اسے اس بات کا یقین ہے کہ اس کو بچانے کے لیے کوئی موجود ہے۔ اسے اپنے ادارے سے امید بہت کم ہے لیکن دیگر تعلقات سے زیادہ کہ وہ اسے بچا لیں گے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں