اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی

اسحاق ڈار
loading...

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران ملزم سعید احمد کے وکیل نے سماعت 5 نومبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔

ریفرنس کے تینوں شریک ملزمان کمرہ عدالت میں موجود تھے جن میں سابق صدر نیشنل بینک سعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضوی شامل ہیں۔
ملزم سعید احمد کے وکیل نے استغاثہ کے گواہ طارق سلیم پر جرح کی۔ گواہ نے بتایا کہ اپریل 1999 میں مضاربہ کی سہولت کے تحت قرض دیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ ایک ماہ کے اندر قرض واپس کردیا گیا۔

گواہ کے مطابق پیش کیے گئے سرٹیفکیٹ پر بینفشری اکاؤنٹ کا نمبر نہیں لکھا، اکاؤنٹ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ گواہ محسن امجد نے پیش کردیا تھا۔

ملزم سعید احمد کے وکیل نے سماعت 5 نومبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔
نیب کے مطابق اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس اور موجود رقم کی تفصیلات پنجاب حکومت کو فراہم کردی گئی۔ نیب کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار اور ان کی کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں 5 کروڑ 83 لاکھ سے زائد رقم موجود ہے۔

عدالت میں اسحاق ڈار ، ان کی اہلیہ اور بیٹے کے 3 پلاٹوں کی قرقی کی تعمیلی رپورٹ بھی جمع کروائی گئی۔ تفتیشی افسر نادر عباس نے بتایا کہ اسحٰق ڈار کی گاڑیاں تحویل میں لینے کے لیے رہائش گاہ پر کارروائی کی گئی، اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر گاڑیاں موجود نہیں تھیں۔ گاڑیوں کی تلاش کی کوشش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار اور اہلیہ کے شیئرز کی قرقی سے متعلق ایس ای سی پی رپورٹ کا انتظار ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد عدالت کو آگاہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ موضع ملوٹ اسلام آباد میں واقع 6 ایکڑ اراضی فروخت کی جاچکی ہے، اراضی کیس کی تفتیش شروع ہونے سے پہلے فروخت کی جاچکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار کا گلبرگ 3 لاہور میں گھر بھی صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا جبکہ اسحاق ڈار کے اکاؤنٹس میں موجود رقم صوبائی حکومت کی تحویل میں دے دی گئی۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں