آج دنیا بھر میں پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے

پولیو کا عالمی دن
loading...

دنیا بھر میں آج انسداد پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی پولیو جیسا مرض موجود ہے۔

ایک وقت تھا جب پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں انسداد پولیو کے قطروں کو بانجھ کر دینے والی دوا سمجھا جاتا تھا اور لوگ اسے اپنے بچوں کو پلانے سے اعتراز کرتے تھے۔

جب لوگوں میں پولیو کے خلاف آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم شروع ہوئی تو لوگوں سے یہ بھی سنا کہ پولیو ویکسین میں بندر کے خون کی آمیزش کی جاتی ہے جس سے ایبولا اور دیگر خطرناک امراض کا خدشہ ہے۔
تاہم اب اس حوالے سے لوگوں کی سوچ میں بے انتہا تبدیلی آرہی ہے جس کا نتیجہ ہر سال پولیو کیسز کی گھٹتی ہوئی تعداد ہے۔

اینڈ پولیو پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پولیو کیسز کی بلند ترین شرح سنہ 2014 میں دیکھی گئی جب ملک میں پولیو وائرس کے مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی۔

یہ شرح پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ اس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔ اسی سال پڑوسی ملک بھارت پولیو فری ملک بن گیا۔

تاہم اس کے بعد عالمی تنظیموں کے تعاون سے مقامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے جس کے بعد سنہ 2015 میں یہ تعداد گھٹ کر 54 اور سنہ 2016 میں صرف 20 تک محدود رہی۔

سنہ 2017 میں پولیو کے 8 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ رواں برس یہ تعداد مزید کم ہوگئی اور اب تک ملک میں 6 پولیو کیسز کی تشخیص کی گئی ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں