بیوروکریسی سے پریشان حکومت

بیوروکریسی

وزیراعظم بیوروکریسی اور پولیس کی جانب سے عدم تعاون پر سخت پریشان اور مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خبر سخت تشویش کا باعث ہے۔ اگر ایک ملک میں سیاسی ٹیم کا منہ شمال کی طرف اور انتظامی ٹیم کا جنوب کی طرف ہو تو یہ بتانا مشکل نہیں کہ وہ ملک کس طرف جائے گا۔ ہمارے خیال میں محترم وزیراعظم نے ایک سنگین چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ الزام لگانے سے پہلے انہوں نے یقیناً ان شواہد پر گہرا غور کیا ہوگا جو ان کے اس تاثر کی بنیاد بنے ہیں۔

اتفاق سے جناب وزیراعظم نے روایت سے ہٹ کر انتظامی مشینری کے لیے ہمہ وقت وزیر مقرر کر رکھا ہے یہ چارج شیٹ اسی مشیر باتدبیر کے نام ہے۔ جناب وزیراعظم کو چاہیئے کہ وہ ان سے وضاحت طلب کریں اگر وہ مشیر اپنی وضاحت سے ان کی تشفی فرما سکتے ہیں تو خوشی کی بات ہوگی اور آئندہ معاملات اسی وضاحت کی روشنی میں تصحیح کی طرف جانے ہوں گے اور اگر مشیر مذکور کی وضاحت تسلی بخش نہ ہوتو جناب وزیراعظم کو نیا مشیر مقرر کرنا چاہیئے۔

سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے کہ جناب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بیوروکریسی اور پولیس سے کیا توقعات تھیں جن پر یہ مشینری پورا نہیں اتر رہی۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے کوئی تحقیق کروائی کہ بیوروکریسی اور پولیس ایسا کیوں کر رہی ہے۔ کیا سرکاری ملازمین پچھلے ادوار میں مختلف معیار کے مطابق کام کرتے رہے ہیں اور اب نئے معیار کی توقع کی جا رہی ہے۔ کام کرنے کے معیار کیا سرکاری ملازمین نے بدل دیے ہیں یا نئی حکومت نے ایسا کیا ہے؟ کیا کام سے متعلق توقعات جنہیں پاکستانی سیاست کی زبان میں تعاون بھی کہا جاتا ہے نئی ہیں؟ کیا جناب وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے اس سلسلے میں ہر طرح کا ابہام دور کر دیا ہے کہ بیوروکریسی اور پولیس کے ساتھ سیاسی ٹیم کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہوگا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ سیاسی ٹیم اور انتظامی ٹیم کو پتا ہونا چاہیئے کہ ان کے لیے ضابطہ کار کی تفصیل کیا ہے۔ ابہام کی صورت میں ہر طرح کی خرابی کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ کہیں یہ ہی تو نہیں ہو رہا؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنے میں ہی بھلائی ہے لیکن ہمیں مبہم سا اندازہ ہے کہ معاملہ کیا ہوسکتا ہے۔ ہمارے خیال میں پہلی وجہ احتساب کی فضاء ہوسکتی ہے جس سے بعض مقامات پر بے یقینی اور عدم اعتماد کا احساس ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جناب وزیراعظم خود ہر کام قانون قاعدے کے مطابق ہونے پر زور دیتے رہے ہیں اس طرح یقیناً کام کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی بلکہ آسانی ہو جاتی ہے لیکن عملی دنیا کے حقائق کو سامنے نہ رکھنا ناممکن ہوتا ہے اور جب انہیں سامنے رکھا جائے تو کام بتدریج مشکل ہوتا جاتا ہے۔

صرف دو مثالوں سے کچھ روشنی ہو جانی چاہیئے۔ جناب وزیراعلیٰ پنجاب نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ہر ممبر صوبائی اسمبلی اپنے حلقے میں وزیراعلیٰ ہوگا۔ ماضی میں جب بھی ایسا ہوتا رہا ہے تو خیریت نہیں رہی۔ دوسری مثال بھی ملاحظہ فرمائیں کہ قطع نظر اس سے کہ جناب وزیراعظم کے خیالات کیا ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات نے چند روز قبل میڈیا سے گفتگو میں سیاسی حقائق پر بھرپور روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ قومی اسمبلی کے اراکین ضلعوں میں سرکاری افسروں کے کام کی نگرانی کریں گے۔ پہلے بھی یہی کچھ ہوتا تھا۔ چنانچہ بلاتحقیق ہمارا اندازہ یہ ہے کہ بیوروکریسی اور پولیس ابہام کا شکار ہیں کہ وہ اصول یاد رکھیں جو جناب عمران خان دہراتے رہے ہیں یا حقیقت کی دنیا میں آجائیں اور حقیقت پسندی کا دامن مضبوطی سے تھام لیں۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں