ادھوری جنس کے جوان لاشے

ادھوری جنس

(حفصہ نور کاشف)

احساسِ برہنگی تپتی ریت سے کہیں زیادہ گرم جھلستی آگ کو محسوس کرتا یہ میرا وجود ہے۔

‎میں مجرم کہ میرا جُرم یہ ہے کہ میں خواجہ سراء ہوں اور مجھے نو ستمبر کو ساہیوال میں زندہ جلا دیا گیا۔ گو اب میرے بدن پر زمین کا آب بھی اثر کھو رہا ہے، جس پر آسمانوں سے صدائیں دیتا صبر بھی بجلی بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ ‎قہر و نفرت کی آگ میں جھونک ڈالنے والے نے ایک بار نہ سوچا کہ خدا کے کُن میں ایک فیصلہ ہمارا وجود، ہماری ولادت بھی تھا۔ ‎پھر اتنی نفرت کیوں جو صدیوں پر محیط ہے۔ دل ہی دل میں تشنگی کی طویل سسکیاں لیتے ہم سوچتے ہیں کہ دنیاوی و مذہبی تخیل کی دنیا میں مکمل جواب ہوتے ہوئے بھی آج تک ہم انسانیت کی بستی میں سوالیہ نشان کیوں بنے ہوئے ہیں؟

‎کوئی نور تو ایسا لاؤ جس کی روشنی سے تمھاری آنکھیں چندھیا جائیں

‎کوئی عصا اس دھرتی پر بھی مارو جو انسانیت کے راستے ہموار کرے

‎کوئی تو تم جیسے احساس سے منکر ہجوم کو صراطِ مستقیم پر لانے کا اعلان کرے

کوئی تو صَفا کے مینار سے آبِ حیات کے چشمے کو ہم پر حلال کرے

‎ہم تمھارے مردانہ طوفان کے آثاروں سے نظریں چرا کر مقدر سے لڑنے کے سراب خواب دیکھ رہے ہیں

‎ہم آدھی جنس والے اپنے پاؤں پہ لڑکھڑاتے چلنا سیکھ رہے ہیں، دوڑنے کی آرزو نہیں کی کیوں کہ تم خدا پرستوں نے چلنا بھی محال کر دیا۔ ‎تمھاری مذہبی تلواریں سانسوں کی ڈور کاٹ ڈالتی ہیں تو کبھی تمھارے معیار کی چوٹیوں سے ہمیں دھکیل دیا جاتا ہے۔ کبھی ہماری جنس ہی تمھاری حیوانوں جیسی جنسی بھوک مٹانے کا بس ایک وقتی ذریعہ رہتی ہے تو کبھی ہم پر سب ہی ستم جائز قرار دینے کے باوجود زمین کے بعد قبرستان کی زمین بھی تنگ کردی جاتی ہے۔‎ جینے کا حق چھیننے کے بعد خاموشی سے ہمیں دفن کرنے کی داستانیں گھڑی جاتی ہیں۔

ہماری چیخ، خاموش چیخ ہے۔ ہمارے جوان لاشے ماتم کر رہے ہیں مگر تم اشرف المخلوقات کو سنائی نہ دیں گے۔ ‎ہماری وحشتیں جب موت بن جاتی ہیں تو کیمرے کی آنکھ ہمیں شرمندہ شرمندہ آنکھوں سے دیکھنے کی جسارت کرتی ہے۔ مگر تم ستم ظریف ہم پر ہونے والے ظلم و ستم کے مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے بھی حقیقت کے وہ مناظر نظرانداز کر دیتے ہو جو وقتی شور برپا کرنے والوں سے کہہ جاتے ہیں کہ یہ فحاشی کا ایک مینار ہیں جسے گرا دینے میں ہی سماج کی فلاح و بہبود ہے۔ انہی اونچے میناروں کے لاؤڈ اسپیکر پر ہماری جنس کو نشانہ بنا کر قوم لوط کی بےحیائی سے موازنہ کرکے الزام دھرے جاتے ہیں لیکن اسی اسپیکر پر دن میں پانچ بار فلاح پکارے جانے والا بھی ہمیں فلاح کا کوئی راستہ فراہم کرنے کو ہرگز تیار دکھائی نہیں دیتا۔

اگر دینی گروہوں نے کوئی راہ چھوڑی ہوتی تو میری ماں سماج سے کچھ تو مقابلہ کرنے کی ٹھان لیتی۔ ‎ماں جب تمھاری شرمندگی دیکھ کر میں نے کہا ہاتھ چھوڑ دو تو تم نے بھی وقت کے ساتھ مل کر کمال ہی کر دیا۔ مگر کیسے میرے صرف ایک بار کہنے سے تم نے فوری معاشرے کی غلیظ سوچ سے شکست تسلیم کر لی؟ ‎تم میری پرورش سے مجھے مرد نہیں بنا سکتی تھیں مگر ایک مکمل انسان تو بنا سکتی تھیں ناں؟

‎جب بابا نے مجھے لہروں کی امانت بنانا چاہا تو مجھے یقین تھا کہ وہ اتنی آسانی سے جذبات کا لہو بہا کر اپنے کاندھوں پر ناحق خون کا قرض نہیں لیں گے۔ کیوں کہ ہمارے نصیب میں سسکتی بلکتی ہجر کی قید کی ماری زندگی لکھ دی جاتی ہے، ‎تمہیں بھی نہیں معلوم تھا ناں بابا کہ تمھارا وحشت کا پانی زندگی بھر کے لیے ناسور بن جائے گا؟ کاش بابا تم آزاد کرنے کی بجائے مجھے مار ہی دیتے۔ میرے اندر کی قید تنہائی مجھے روز موت سے ہمکلام ہونے کی نوید سناتی رہے گی۔ تم مجھے اس ادا سے ڈبو کر چل دیے جیسے پھول خوشبو سے ملن کے بعد بچھڑ کر بکھر گئے ہوں۔

ہماری نومولود زندگی کی دھنک کے رنگ چار عالم میں قدم رکھنے کی آرزو کرنے کی جسارت بھی نہیں کرنا چاہتے مگر ہم پھر بھی روز پیدا اور روز مرتے ہیں۔ ‎بابا لوگوں کی طرح تشنگی نے تمھارے بھی حواس خدا پرستی کے نشے میں اس قدر گم کر دیے کہ آسمان کے فیصلوں سے بھی منکر ہوگئے۔ ہاں وہی آسمان

‎وہی آپ کا عقیدہ جس کے کُن کی اجازت کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا!

‎مگر سنو بابا !‎

تم اپنے ہی خدا کی مرضی سے جھگڑ سکتے ہو مگر میرا خدا بہت بڑا ہے۔ وہ تمھاری طرح چھوٹا، کم ظرف نہیں جو اپنی مجبوریوں، محرومیوں اور کمزوریوں کو مقدر کا لکھا مان کر اپنی بنائی ہوئی چیزیں توڑ کر ایک بچے کی طرح خوش ہوتا ہو۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں