ریاست مدینہ کے خدوخال واضح کیجئے

وزیراعظم عمران خان
loading...

آج کے جدید اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے جس فہم اسلام کی ضرورت ہے افسوس مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ اِس سے محروم چلا آ رہا ہے، یہاں تک کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں جو شخصیات قیادت و سیادت کے منصب پر فائز ہیں وہ بھی اسلام کی بنیادی تعلیمات سے کما حقہ، آگاہی نہیں رکھتیں۔نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے نفاذ کے سلسلے میں نعرے تو بہت لگائے جاتے ہیں لیکن عملی کام کہیں نظر نہیں آتا۔ملک میں ایک اسلامی آئین نافذ ہے جس کی روشنی میں خلافِ اسلام قوانین کے خاتمے کا آغاز کیا جاتا تو اب تک اِس سلسلے میں بہت سی کامیابیاں حاصل ہو چکی ہوتیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ کثرتِ تاویلات کی وجہ سے اسلامی تعلیمات کا روشن چہرہ ہی دھندلا چکا ہے۔

نام کے مسلمانوں نے دنیا کے سامنے اپنے اسلام کا جو نمونہ پیش کیا ہے غیر مسلموں نے اسے ہی حقیقی اسلام سمجھ کر اسلامی تعلیمات ہی کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیا، اور یہ نتیجہ نکال لیا کہ جس طرح کے یہ لوگ ہیں اسلام ایسے ہی لوگ تیار کرنا چاہتا ہے،حالانکہ یہ لوگ اسلام کے نمائندہ نہیں تھے، جن انتہا پسندوں نے اسلامی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کرایسے اقدامات کئے، جو کسی بھی طرح اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتے تھے وہ بالآخر اسلام کی بدنامی کا باعث ہی بنے۔ پوری اسلامی دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں جو تنظیمیں مصروف ہیں ان کے ارکان میں بیشتر وہ ہیں، جس کے ارکان نے نہ تو خود اپنے اوپر اسلام نافذ کیا اور نہ ہی وہ دین کا درست فہم رکھتے ہیں۔

غالباً ایسے ہی لوگ ہیں،جنہیں وزیراعظم نے اسلام کے ٹھیکیدار کہہ کر مخاطب کیا ہے۔اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا،لیکن وہ اپنے عمل و کردار سے خوب پہچانے جاتے ہیں۔اسلامی تعلیمات وہ ہیں جو حضور اکرمﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کرامؓ کے سامنے پیش کیں اور خود ان پر عمل پیرا ہوئے، صحابہ کرامؓ خود عمل کے سانچے میں ڈھل گئے اور آپﷺ کے بعد انہوں نے یہ تعلیمات آگے پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ حجتہ الوداع کے خطبے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو لوگ یہاں حاضر ہیں وہ میری باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں،جو یہاں موجود نہیں ہیں،یہی وجہ ہے کہ حضوراکرمﷺکا ہر عمل اور ہر فرمانِ مبارک تاریخ کے صفحات میں آج تک جگمگ جگمگ کر رہا ہے اور جن مسلمانوں کو اللہ تعالی نے توفیق ارزانی فرمائی ہے وہ آج بھی نہ صرف حضور اکرمﷺکی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں،بلکہ آپ کے ارشادات کو پھیلانے کی ذمے داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر ایسے گروہ بھی سرگرم عمل ہیں،جنہوں نے اسلامی تعلیمات کو حصول زر یاِ اقتدار کا ذریعہ بنا لیا، ان کی اپنی زندگیاں اسلام کی روح سے خالی ہیں،لیکن وہ اس مقدس دین کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں۔ ایسے گروہ ہر دور میں وجود میں آتے رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،لیکن مسلمانوں نے اِن کی سازشوں اور عزائم کو بھانپ کر ہمیشہ اِن کا مقابلہ کیا اور انہیں ناکام بنایا ۔وزیراعظم عمران خان نے یہ اطلاع دی ہے کہ سیرتِ رسولﷺکے مطالعہ کے بعد ان کی زندگی بدل گئی،اِسی لئے انہوں نے نئی نسل پر زور دیا کہ وہ بھی حضوراکرمﷺکی سیرتِ پاک کا مطالعہ کرے اور اپنی زندگیوں کو آپؐکی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالے۔

انہوں نے تین یونیورسٹیوں میں سیرت چیئرز بھی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں بھی سیرتِ رسول اکرمؐ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ اِن یونیورسٹیوں سے اسلامیات کے مضمون میں پوسٹ گریجوایٹ ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوان ہمارے معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں اور اگر اِس سلسلے میں کوئی خصوصی کاوشیں نہیں ہو رہیں تو حکومت کو کوئی ایسا پلان ضرور بنانا چاہئے،جس کے ذریعے پاکستان کی نئی نسل میں اسلام کی تعلیمات راسخ کرنے کا کام زیادہ بہتر طریقے سے انجام پا سکے یہ کام صرف تین جامعات میں سیرت چیئرز قائم کرنے سے نہیں ہو گا، اِس کے لئے پورے معاشرے کی بنیادیں نئے سرے سے اٹھانا ہوں گی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جو جماعتیں یہ داعیہ لے کر اٹھی تھیں انہیں ووٹروں نے کبھی اتنی پذیرائی نہیں بخشی کہ وہ حکومت میں آ کر اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنا سکتیں،کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ ووٹر ان کا پیغام نہیں سمجھ پایا یا ان کی باتیں ان کے سر سے گزر جاتی ہیں،اِس لئے یہ جماعتیں بھی مایوس ہو کر مروجہ سیاست کی رو میں پوری طرح بہہ نکلیں اور اب دینی جماعتوں کی سیاست بھی ان جماعتوں کی سیاست سے زیادہ مختلف نہیں رہ گئی، جو اپنے منشور میں اسلام کا نام اتنی شد و مد سے استعمال نہیں کرتیں۔وزیراعظم عمران خان ریاست مدینہ کا نام تو اکثر لیتے ہیں،لیکن ایسی ریاست کی تشکیل کے لئے انہوں نے عملی طور پر کیا کام شروع کیا ہے، اس کا کوئی علم اہلِ وطن کو نہیں ہے، وہ اپنے اس پروگرام کی جزیات پارلیمینٹ کے سامنے رکھیں اور بتائیں کہ وہ کس طرح پورے معاشرے کو مدینہ کی اسلامی ریاست والا معاشرہ بنائیں گے۔ اِس وقت اوپر سے لے کر نیچے تک جتنے لوگ حکومتی عہدوں پر فائز ہیں ان سے تو نہیں لگتا کہ اس حکومت کے پیش نظر کوئی ایسا منصوبہ ہے،جس کا ذکر تواتر سے ہو رہا ہے۔اگر ریاستِ مدینہ صرف نعرہ نہیں ہے اور حکومت عملًا ایسا کرنا چاہتی ہے تو اِس سلسلے میں ہونے والے اقدامات نظر بھی آنے چاہئیں۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں