کرتارپوربارڈر عوام کے درمیان پل کا کام کرے گا، بھارتی وزیراعظم

کرتارپوربارڈر

نئی دہلی: بھارت امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرنے پرمجبور ہوگیا، بھارتی وزیراعظم نے کا کہنا ہے کہ کرتارپوربارڈر عوام کے درمیان پل کا کام کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے اقدام نے بھارت کو بھی کرتارپوربارڈرکھولنے پر مجبورکردیا، نئی دہلی میں تقریب سے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپوربارڈر سے متعلق کہا کہ کرتارپورپاکستان اور بھارت کے عوام کو جوڑے گا اور عوامی رابطے بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں گے۔

مودی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات میں بہتری اور تنازعات کا حل وقت پر ہی نکلے گا۔

خیال رہے وزیراعظم عمران خان اٹھائیس نومبر کو کرتارپوربارڈر کا افتتاح کریں گے اور نوجوت سدھووزیراعظم کی دعوت پرکرتارپوربورڈ کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

یاد رہے بھارت کے دفترخارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھ کر گرونانک کے جنم دن پر کرتارپور کوریڈور کھولنے پر شکریہ ادا کیا تھا جبکہ بھارت کی کابینہ نے کرتارپور بارڈر تک کوریڈورکی تعمیر کی منظوری بھی دی تھی۔

جس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے سماجی رابطے کی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کرتارپور بارڈر کھلنا دونوں ممالک کی امن پسند لابی کی فتح ہے، بھارتی کابینہ نے کرتارپوربارڈر پرپاکستان کی تجویز کی توثیق کردی، یہ درست سمت میں قدم ہے، توقع ہے ایسے اقدامات سے سرحد کی دونوں جانب متوازن آوازوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کو باباگرونانک کے 550 جنم دن پر کرتارپور کھولنے کا مطلع کرچکے ہیں

واضح رہے وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں سابق بھارتی کرکٹرنوجوت سدھو نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ سے کرتارپوربورڈرکھولنے کی درخواست کی تھی۔

جس پر انٹرویو میں وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا پاکستان جلد سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دے گا، جس کے بعد یاتری ویزے کے بغیر گردوارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔

خیال رہے دربار کرتارپور ضلع نارووال میں ہے جبکہ اس کے دوسری جانب سرحد پار بھارتی تحصیل بٹالہ میں ڈیرہ بابا گرونانک ہے، پاکستان نہ پہنچنے والے سکھ یاتری دوربین سے دربار کرتا سنگھ کا نظارہ کرتے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں