بدتمیزی

قبض

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو کیسے سمجھاؤں‘‘

’’جب کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے‘‘

’’آپ تو بس ہر بات پر گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ آپ نے یہ تو پوچھ لیا ہوتا کہ میں آپ سے کیا کہنا چاہتی ہوں‘‘

’’اس کے پوچھنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ بس فقط لڑائی مول لینا چاہتی ہو‘‘

’’لڑائی میں مول لینا چاہتی ہوں کہ آپ۔ سارے ہمسائے اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ آئے دن مجھ سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔

’’خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ایک برس تک میں تم سے کوئی تلخ بات کی ہے نہ شیریں‘‘

’’شیریں بات کرنے کا آپ کو سلیقہ ہی کہاں آتا ہے۔ نوکر کو آواز دے کر بلوائیں گے تو سارے محلے کو پتہ چل جائے گا کہ آپ اسے گولی سے ہلاک کرنا چاہتے ہیں‘‘

’’میرے پاس بندوق ہی نہیں۔ ویسے میں خرید سکتا ہوں مگر اس کو چلائے گا کون؟۔ میں تو پٹاخے سے ڈرتا ہوں‘‘

آپ بنیئے نہیں۔ میں آپ کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ فراڈ میرے ساتھ نہیں چلے گا آپ کا‘‘

’’اب میں فراڈ بن گیا؟‘‘

’’آپ ہمیشہ سے فراڈ تھے۔ ‘‘

’’یہ فیصلہ آپ نے کن وجوہ پر قائم کیا‘‘

’’آپ جب پانچویں جماعت میں پڑھتے تھے تو کیا آپ نے ابّا جی کی جیب سے دو روپے نہیں نکالے تھے؟‘‘

’’نکالے تھے‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ بھنگی کی لڑکی کو ضرورت تھی‘‘

’’اس لیے کہ وہ بھنگی کی لڑکی تھی۔ بہت بیمار۔ والد صاحب سے اگر کہا جاتا تو وہ کبھی ایک پیسہ بھی اسے نہ دیتے ‘ میں نے اسی لیے مناسب سمجھا کہ ان کے کوٹ سے دو روپے نکال کر اس کو دے دُوں۔ یہ کوئی گناہ نہیں‘‘

’’جی ہاں۔ بہت بڑا ثواب ہے۔ باپ کے کوٹ پر چھاپہ مار کر آپ تو اپنے خیال کے مطابق جنت میں اپنی سیٹ بک کر چکے ہوں گے لیکن میں آپ سے کہے دیتی ہوں کہ اس کی سزا آپ کو اتنی کڑی ملے گی کہ آپ کی طبیعت صاف ہو جائے گی‘‘

’’طبیعت تو میری ہر روز صاف کی جاتی ہے۔ اب اتنی صاف ہو گئی ہے کہ جی چاہتاہے کہ اس طبیعت کو کیچڑ میں لت پت کر دوں تاکہ تمہارا مشغلہ جاری رہ سکے‘‘

’’یہ کیچڑ میں تو آپ ہر وقت لتھڑے رہتے ہیں‘‘

’’یہ سراسر بہتان ہے‘‘

’’بہتان کیا ہے۔ حقیقت ہے۔ آپ سر سے پاؤں تک کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہیں۔ آپ کو کسی نفیس چیز سے دلچسپی ہی نہیں‘ بات کریں گے تو غلاظت کی۔ نہاتے آپ نہیں‘‘

’’غضب خدا کا۔ میں تو دن میں تین مرتبہ نہاتا ہوں‘‘

وہ بھی کوئی نہانا ہے۔ بدن پر دو ڈونگے پانی کے ڈالے۔ تولیے سے اپنا نیم خشک جسم پونچھا اور غسل خانے سے باہر نکل آئے۔ ‘‘

’’دو ڈونگے تو نہیں‘ کم از کم بیس ہوتے ہیں‘‘

’’تو ان سے بھی کیا ہوتا ہے۔ کیا آپ نے آج تک کبھی صابن استعمال کیا ہے؟‘‘

’’میں تم سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ صابن جلد کے لیے بہت مضر ہے‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ اس میں ایسے تیزابی مادے ہوتے ہیں جو جلد کا ستیاناس کر دیتے ہیں‘‘

’’میری جلد تو آج تک ستیاناس نہیں ہوئی۔ آپ کی جلد بہت ہی نازک ہو گی

’’

’’نازک ہونے کا سوال نہیں۔ یہ ایک سائینٹیفک بحث ہے‘‘

’’میں سائنٹیفک وائینٹیفک کچھ نہیں جانتی۔ بس میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ صابن کیوں استعمال نہیں کرتے؟‘‘

’’بھئی ‘ تمھیں بتا تو چکا ہوں کہ یہ مضر ہے‘‘

’’تو آپ نہاتے کس طرح ہیں‘‘

’’نہانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ پانی ڈالتے گئے اور نہاتے گئے‘‘

’’جسم پر آپ کوئی چیز نہیں ملتے۔ میرا مطلب ہے ‘ صابن نہیں تو کوئی اور چیز‘‘

’’ملا کرتا ہوں‘‘

’’کیا؟‘‘

’’بیسن‘‘

’’وہ کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’ارے ‘ بھئی‘ چنے کا آٹا‘‘

آپ کی جو بات ہے، نرالی ہے۔ میں تو آپ ایسے سنکی سے خدا قسم تنگ آگئی ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، کہاں جاؤں۔ ‘‘

’’اپنے میکے چلی جاؤ۔ وہاں تمہیں اپنی ہم خیال مل جائیں گی۔ ‘‘

’’میں کیوں جاؤں وہاں۔ میں یہیں رہوں گی۔ ‘‘

’’میں نے تم سے آج ہی کہا۔ اس لیے کہ تم لاکھ مرتبہ مجھے دھمکی دیتی رہی ہو کہ میں چلی جاؤں گی اپنے میکے۔ ‘‘

’’مجھے جب جانا ہو گا چلی جاؤں گی۔ ‘‘

’’آج تمھاری طبعیت نہیں چاہتی؟‘‘

’’آپ مجھے چڑانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں؟‘‘

’’میں نے توکوئی کوشش نہیں کی۔ اگر تم چاہتی ہوکہ کوشش کروں، تو یقین مانو، تم ابھی تانگہ لے کر اسٹیشن پہنچ جاؤگی۔ ‘‘

’’کوشش کر کے دیکھ لیجیے۔ میں یہاں سے ایک انچ نہیں ہٹوں گی۔ یہ میرا گھر ہے۔ ‘‘

’’آپ کا ہے۔ آپ کے باپ دادا کا ہے۔ لیکن یہ تو بتائیے۔ ‘‘

’’میرے باپ دادا کا نام مت لیجیے۔ اُن بیچاروں کا کیا قصور تھا؟‘‘

’’ْقصور تو سارا میرا ہے۔ لیکن بیگم، تم کبھی کبھی اتنا غور کرلیا کرو کہ میں نے آخر تمھیں کون سا جانی نقصان پہنچایا ہے کہ تم لٹھ لے کر میرے پیچھے پڑجاتی ہو۔ ‘‘

’’لٹھ تو ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں رہا ہے۔ میں تو اُسے اٹھا بھی نہیں سکتی۔ ‘‘

’’تم بڑے سے بڑا گرز اُٹھا سکتی ہو۔ تم ایسی عورتوں میں بلا کی قوت ہوتی ہے۔ تم عقاب ہو۔ تمہارے سامنے تو میرے حیثیت ایک چڑیاکی سی ہے۔ ‘‘

’’باتیں بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے۔ آپ چڑیا ہیں۔ سبحان اللہ۔ جب کڑکتے اور گرجتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیردھاڑ رہا ہے۔ ‘‘

’’اس شیر کو پہلے ایک نظر دیکھ لو۔ ‘‘

’’کیا دیکھوں؟۔ پندرہ برس سے دیکھ رہی ہوں۔ ‘‘

’’یہ خاکسار شیر ہے کیا؟

’’شیر ہے، مگر خاک میں لپٹا ہوا۔ ‘‘

’’اس تعریف کا شکریہ۔ اب آپ یہ بتائیے کہ آپ کہنا کیا چاہتی تھیں۔ ‘‘

’’آپ اتنے لائق فائق بنے پھرتے ہیں۔ سمجھیے کہ میں کیا کہنا چاہتی تھی۔ ‘‘

’’تمھاری باتیں تو صرف خداہی سمجھ سکتا ہے۔ میں کیا سمجھوں گا۔ ‘‘

خدا کو بیچ میں کیوں لاتے ہیں۔ ‘‘

’’خدا کو اگر بیچ میں نہ لایا جائے تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔ ‘‘

’’بڑے آئے ہیں آپ خدا کو ماننے والے۔ ‘‘

’’خدا کو تو میں ہمیشہ سے مانتا آیا ہوں۔ وہ طاقت جو دُنیا پر کنٹرول کرتی ہے۔ ‘‘

’’کنڑول تو آپ مجھ پر کرتے آئے ہیں۔ ‘‘

’’کس قسم کا؟‘‘

’’ہر قسم کا۔ میںآج تک اپنی مرضی کے موافق کوئی چیز نہیں کرسکتی کپڑے لیتی ہوں، تو اُس میں آپ کی مرضی کا دخل ہوتا ہے۔ کھانے کے بارے میں بھی آپ کی مرضی چلتی ہے۔ آج یہ پکے، کل وہ پکے۔ ‘‘

’’اس میں تمھیں اعتراض ہے؟‘‘

’’اعتراض کیوں نہیں۔ میرا جی اگر کبھی چاہتا ہے کہ اوجھڑی کھاؤں تو آپ نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ‘‘

’’اوجھڑی بھی کوئی کھانے کی شے ہے۔ ‘‘

’’آپ کیاجانیں، کتنی مزیدار ہوتی ہے۔ چُونے میں ڈال کر اُسے صاف کر لیا جاتاہے، اُس کے بعد اچھی طرح گھی میں تلا جاتاہے۔ اللہ قسم مزا آجاتاہے۔ ‘‘

’’لاحول ولا۔ میں ایسی غلط چیز کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ ‘‘

’’اور ٹینڈے؟‘‘

’’بکواس ہیں۔ سبزی کی سب سے بڑی توہین ہیں۔ اُن میں کوئی رس ہوتاہے نہ لذت۔ بس ققط ٹینڈے ہوتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ پیدا کس غرض کے لیے کیے گئے تھے۔ نہایت واہیات ہوتے ہیں۔ میں تو اکثر یہ دُعا مانگتا ہوں کہ اُن کا وجود سرے ہی سے غائب ہوجائے۔ بڑے بے جان ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کدّو بدرجہا بہتر ہے‘حالانکہ وہ بھی مجھے سخت ناپسند ہے۔ ‘‘

’’آپ کو کون سی چیز پسند ہے؟۔ ہر اچھی چیز میں آپ کیڑے ڈالتے ہیں۔ بھنڈی آپ کو پسند نہیں کہ اُس میں لیس ہوتی ہے۔ گوبھی آپ کو نہیں بھاتی کہ اُس میں یہ نقص نکالا جاتاہے کہ بدبُو ہوتی ہے۔ ٹماٹر آپ کو اچھے نہیں لگتے، اس لیے کہ اُس کے چھلکے ہضم نہیں ہوتے۔ ‘‘

’’تم ان باتوں کو چھوڑو۔ ٹینڈے، گوبھی اور ٹماٹر جائیں جہنم میں۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ مجھ سے کہنا کیا چاہتی تھیں۔ ‘‘

’’کچھ بھی نہیں۔ بس ایسے ہی آگئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ کوئی کام نہیں کررہے، تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ ‘‘

’’بڑی نوازش ہے آپ کی۔ لیکن کچھ نہ کچھ تو ضرور کہنا ہو گا آپ کو۔ ‘‘

’’آپ سے اگر کچھ کہہ بھی دیا تو اُس کا حاصل کیا ہو گا۔ ‘‘

’’جو آگے آپ کو حاصل ہوتا رہا ہے، اُسی حساب سے آج بھی حاصل ہوجائے گا۔ آپ یہاں سے کچھ حاصل کیے بغیر ٹلیں گی کیسے؟‘‘

’’میں آپ سے ایک خاص بات کرنے آئی تھی۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’میں۔ میں یہ کہنے آئی تھی، کہ میری سمجھ میں نہیں آتا، میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟‘‘

’’آپ کیا سمجھانے آئی تھیں مجھے۔ ‘‘

’’آپ کو تو خدا سمجھائے گا۔ میں یہ کہنے آئی تھی کہ آپ پتلون پہن کر اُس کے بٹن بالکنی میں بند نہ کیا کریں۔ ہمسایوں کو سخت اعتراض ہے۔ یہ بہت بڑی بدتمیزی ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں