زینب کا جنت سے اپنی ماں کو خط

زینب

نوید نسیم
زینب کا خط
پیاری امّاں،
امید ہے کہ میرا قاتل اور میرے ساتھ درندگی کرنے والے درندے کی گرفتاری کے بعد آپ کو کچھ سکون ملا ہوگا۔ میری حالت بھی یہ خبر سننے کے بعد بہتر ہیں اور مجھے اب تسلی ہے کہ میری بہنیں اس درندے کی درندگی کا نشانہ نہیں بنیں گی۔
یہ خط اماں میں پہلے لکھنا چاہتی تھی۔ لیکن حالت ہی ایسی تھی کہ میرے ہاتھ قلم اٹھانے سے قاصر تھے۔ آج بھی شدید تکلیف اور درد کے ساتھ قلم تھامہ ہے اور اس لئے بھی کہ آج تیری لاڈلی زینب کا قاتل پکڑا گیا ہے۔
اماں، میں جنت کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہوں کیونکہ اس درندے نے ناصرف میرے سے درندگی کی۔ بلکہ میرے کمزور جسم کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ میں 14 دنوں بعد بھی چلنے پھرنے کے قابل نہیں۔ مجھ سے پہلے اس درندے کی حوّس کا شکار ہونے والی عائشہ اور کائنات بھی اسی وارڈ میں زیر علاج تھیں۔ جو اب جنت کے سکول میں پڑھ رہی ہیں۔ میں بھی ہسپتال سے جاکر ان کے ساتھ ہی پڑھوں گی۔
اس ملزم کے پکڑے جانے کے بعد اماں، اب مجھے تسلی ہے کہ میری بہنیں اور محلے کی دوسری بچیاں اس درندے سے محفوظ ہیں۔ جس نے مجھے ورغلایا۔
اماں، میں تو اُس دن اپنے بھائی کے ساتھ خالہ کی طرف قرآن پڑھنے جارہی تھی۔ لیکن راستے میں مجھے اس درندے نے ورغلاتے ہوئے کہا، تمھارے امی اور ابو عمرے سے واپس آگئے ہیں۔ چلو میں تمھیں ان کے پاس لے چلتا ہوں۔ بس یہ سننے کی دیر تھی اماں، میں نے اس درندے کا ہاتھ پکڑا اور وہ مجھے ساتھ لے گیا۔
اماں، میں اُسے کہتی رہی کہ مجھے اپنے دوسرے بہن بھائیوں کو بھی ساتھ لینے دو۔ لیکن اس نے میری ایک نا سنی اور وہ مجھے ایک زیر تعمیر گھر میں لے گیا۔
اماں، اس درندے میں اتنی طاقت تھی کہ اس نے میرے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے جکڑ رکھے تھے اور دوسرے ہاتھ سے۔۔۔ میرے رونے اور چیخنے کی باوجود اماں، اس نے مجھے نا چھوڑا۔ میں بہت چیخی چلائی، روئی۔ اماں، میں تجھے بتا بھی نہیں سکتی کہ اس درندے نے تیری زینب کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
اماں، اُس نے میری بازؤوں کو اتنی زور سے مروڑا کہ 14 دن گزر جانے کے بعد بھی ان میں شدید درد ہے۔ میرے چہرے کو جسے تو نورانی چہرہ کہتی تھی اماں، اتنے زور سے مسلا کہ آج بھی اس پر اس درندے کی انگلیوں کے نشانات موجود ہیں۔ اماں، اس کا چہرہ اتنا خوفناک تھا کہ مجھ میں اس کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
پتا نہیں اماں، آپ کو اور ابا کو بھی ابھی عمرے پر جانا تھا۔ اگر آپ ہم بچوں کو ساتھ لے جا نہیں سکتے تھے اماں، تو آپ بھی کیوں گئے۔ آپ کو نہیں پتا کہ ہمارے گرد بھیڑیوں سے بھی زیادہ خظرناک درندے رہتے ہیں۔ اس سے تو بہتر تھا اماں، ہمیں آپ کسی جنگل میں چھوڑ جاتی۔ شائد جنگل کے خطرناک جانور بھی مجھ سے وہ سلوک نا کرتے، جو اس درندے نے کیا۔
اماں عمرے پر جاتے وقت تو نے کہا تھا کہ تو اللہ کے گھر جا کر میرے اچھے نصیبوں اور لمبی عمر کے لئے دعا کریگی۔ لیکن اماں، مجھے نصیب میں تو یہ درندہ ملا۔ میرے بد نصیب نصیب میں تو موت بھی ایسی آئی کہ میں عمرے پر گئے اپنے والدین کو بھی نا مل سکی۔ میری قسمت نے تو مجھے اتنی اجازت بھی نا دی کہ میں اللہ کے گھر سے آئے آبِ زم زم کو پی سکوں اور اللہ کے گھر سے آئے جائے نماز پر بیٹھ کر اللہ سے اپنے والدین کی لمبی عمر کی دعائیں مانگ سکوں۔
ابا سے کہنا اماں کہ میری باقی بہنوں کا اب خیال رکھیں اور اگلی بار اگر عمرے پر جائیں تو سب بچوں کو ساتھ لے کر جائیں۔
آخر میں اماں، سب والدین اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد نیک اور تابع دار ہو۔ بیٹیوں کے اچھے نصیب ہوں۔ اماں، میرے نصیب میں تو یہ درندہ لکھا تھا۔ لیکن اماں، تیری سب سے چھوٹی بیٹی کو جنت نصیب ہوگئی ہے۔ تو نے میرے اچھے نصیب کی اللہ کے گھر جا کر دعائیں کیں۔ وہ نصیب تو نا ملا. اب میں اللہ سے کہوں گی کہ میرے والدین جن کے عمرے پر گئے ہونے کی وجہ سے میں درندگی کا نشانہ بنی ۔ ان سے میری ملاقات جنت میں ضرور کروادے۔ جس اللہ نے عمرے پر آپ کی اور ابا کی دعائیں نہیں سنی، وہ جنت میں میری التجا رد نہیں کرسکتا۔ کیونکہ میں اللہ کے گھر نہیں گئی بلکہ اللہ نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔
اپنا، ابا کا اور میرے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا۔
آپکی سبز آنکھوں والی بیٹی۔
زینب انصاری
انتہائی نگہداشت وارڈ، جنت

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں