جانیے زینب قتل کیس کی تحقیقات کیسے ہوئیں۔

زینب کے ساتھ زیادتی

7 سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل ہونے کے بعد پورے ملک سے شدید عوامی رد عمل سامنے آیا۔ جس نے حکومت کو اس کیس کی تیز ترین تحقیقات پر مجبور کر دیا۔ وزیر اعلیٰ سے لے کر نچلے درجے تک اس کیس کو لے کر مسلسل ایمرجنسی نافذ رہی،جس کے باعث قاتل گرفتار ہوا۔

آٰئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ پولیس نے تحقیقات کے دوران کیا کچھ کیا۔

1۔ زینب کے گھر کے گرد  ڈھائی کلومیٹر کے علاقے کی تمام انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے 14 دن تک نگرانی کی گئی۔

2۔ جائے وقوعہ کی تین لاکھ مخلتف زاویوں سے تصاویر لی گئیں۔ اور کئی ویڈیوز بنائی گئیں

3۔ 600 ہزار فون کالز کو ٹریس کیا گیا۔

4۔ 2017 کی مردم شماری کے اعداد شمار سے مدد لیتے ہوئے 60000 لوگوں کو کاونٹر چیک کیا گیا۔

5۔ کرائم سین کی جیو فینسنگ کی گئی۔

6۔  کئی دنوں کی سی سی ٹی وی کی ویڈیوز کو بہت ہی باریک بینی سے دیکھا گیا۔

7  ڈی این اے کے 1150 نمونے لیے گئے۔ ان 1150 نمونوں میں سے 814 واں نمونہ زینب کے قاتل عمران کا نکلا۔ جس کے بعد عمران کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ اور گرفتار ہونے کے بعد عمران نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔

اس تمام تر محنت پر پنجاب پولیس مبارک باد کی مستحق قرار پاتی ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں