ڈی این اے رپورٹ۔۔۔ زینب کے قاتل کو سزا دینے کے لئے ناکافی۔

قاتل کی گرفتاری ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک رپورٹ

قصور میں درندگی کا نشانہ بننے اور پھر قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کا قاتل آخر کار پکڑا گیا۔ قاتل کی گرفتاری ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔

پاکستانی قانون کی نظر میں ڈی این اے ٹٰیسٹ کی کیا حیثیت ہے؟

سپریم کورٹ میں چند سال قبل ڈی این اے رپورٹ کو جنسی زیادتی کیس میں 15 اکتوبر 2015 کے فیصلے میں ناکافی شہادت قرار دیا گیا تھا۔

لہزا سہریم کورٹ کے مزکورہ فیصلے کی روشنی میں صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر زینب قتل کیس میں ملزم عمران علی کو سزا نہیں دی جا سکتی ۔ سزا کے لیے عدالت کے سامنے گواہان کے علاوہ دیگر ثبوت پیش کرنا لازمی ہوگا۔ لہذا ڈی این اے کی بنیاد پر زینب قتل کیس میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کی ناکافی  قانونی حیثیت کی وجہ سے تفشیش کاروں کو ملزم عمران علی کے خلاف عدالت میں مزید ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ملزم کا جے آئی ٹی کے سامنے دیا گیا اعترافی بیان کی بھی عدالت کے سامنے کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔ جب تک کہ ملزم اپنے جرائم کا اعتراف جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے نا کرے۔ لہذا اب دیکھنا ہوگا قصور کی 7 سالہ زینب کے ساتھ درندگی کرنے والے اور قاتل  کو سزا کس بنیاد پر دی جاتی ہے یا وہ قانون میں سقم ہونے کی وجہ سے رہا ہو جاتا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں