بالی ووڈ فلم “پدماوت” پُرتشدد مظاہروں کے باوجود ریلیز

فلم "پدماوت" پُرتشدد مظاہروں کے باوجود ریلیز

سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پدماوت بھارت کے بیشتر حصوں میں پرتشدد مظاہروں کے باوجود آج ریلیز کر دی گئی۔

بالی ووڈ فلم “پدماوت” پُرتشدد مظاہروں کے باوجود ریلیز۔ بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے ’’پدماوت‘‘کو 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت ملنے کے باوجود پورے بھارت میں فلم کی نمائش کے خلاف احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ بھارت کی چار بڑی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور بہار میں فلم کی ریلیز پر پابندی عائد ہے۔ تاہم انڈین سپریم کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ وہ فلم کے خلاف مظاہروں کو کنٹرول نا کرنے پر ان چار ریاستوں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائے گی۔

یاد رہے کہ فلم  کی ریلیز کے خلاف کل سے پرتشدد مظاہرئے کیئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ شام  گرگام میں مشتعل مظاہرین نے اسکول بس پر حملہ کرکے بس کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اور بھوپال میں مشتعل ہجوم نے گاڑی کو آگ لگا دی۔ تاہم بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق گرگام میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اور کل ہونے والے ہنگاموں میں ملوث 18 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم پدماوت کا پہلا نام پدماوتی تھا۔ تاہم ریلیز سے پہلے ہی بھارتی انتہا پسند تنظیموں نے فلم پر پابندی کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ انتہا پسند تنظیموں کے مطابق فلم میں رانی پدماوتی کے کردار کو صحیح طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم بھارتی سینسر بورڈ نے فلم کا نام تبدیل کرنے کے بعد 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت دے دی تھی۔

فلم کی نمائش کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں کی ویڈیو دیکھیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں