تمام سیاسی جماعتیں دنیا بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے پرامن اور مستحکم ملک ہونے کا پیغام دیں، احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں دنیا بھر بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے پرامن اور مستحکم ملک ہونے کا پیغام دیں، ملک میں بے یقینی کی صورتحال کے ذمہ دار ہم خودہونگے ،آنیوالی نسلوں پر اس کے اثرات مرتب ہونگے، تمام سیاسی جماعتیں ملک کے اقتصادی مستقبل کیلئے یکسو ہو جائیں۔ گوادر میں ایکسپو کے انعقاد سے ملک کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں سے متعارف کرانے میں مدد ملے گی، سی پیک کی تکمیل سے ملک ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو گا، گوادر سٹیٹ آف دی آرٹ پورٹ سٹی بنے گا، اسلام آباد ایئرپورٹ کا افتتاح مارچ تک ہو جائیگا، ملک اقتصادی طور پر ٹیک آف کر رہا ہے ، ملک کی سیکیورٹی کیلئے خطرہ بننے والے کسی بھی شخص کو ویزا نہیں دیا جائے گا ۔گوادرکوئٹہ سڑک مکمل ہو چکی ،گوادرخضدار اور رتوڈیرو روڈ پر 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جس پر ٹریفک رواں دواں ہے، منصوبہ ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل ہو جائیگا جس سے بلوچستان کی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے یہ بات جمعرات کو منصوبہ بندی کمیشن میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالہ سے 52 ویں پراگریس ریویو اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی اقتصادی فورم میں بھی پاکستان کو بھارت کے مقابلہ میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کے حوالہ سے بہتر ملک قرار دیا گیا ہے، سی پیک کی تکمیل سے ملک ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 29 اور 30 جنوری کو گوادر میں پہلی ایکسپو کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے سرمایہ کار آ رہے ہیں، ایکسپو کے انعقاد سے ملک کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں سے متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر تیزی سے بدل رہا ہے تاہم ابھی بہت سے ترقیاتی کام باقی ہیں جن پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 70 سال کا کام اگر کہا جائے کہ 2 سال میں ہو تو یہ مناسب نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے چار سال کے قلیل عرصہ میں 50 سال کا سفر طے کیا ہے اور گوادر سٹیٹ آف دی آرٹ پورٹ سٹی بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں چینی کمپنی کی جانب سے قائم کیا گیا بزنس سنٹر دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے بزنس سنٹر سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو کے انعقاد سے سی پیک کی ترقی میں مزید مدد حاصل ہو گی اور اس سے نہ صرف گوادر بلکہ ملک کے دیگر مختلف علاقوں میں قائم کئے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز میں بھی سرمایہ کاری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی کوآرڈینیشن کونسل کے 52 ویں اجلاس میں تمام وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ محکموں سے منصوبوں پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد سیکرٹری منصوبہ بندی کی قیادت میں چین گیا تھا تاکہ 7ویں جے سی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ کے دوران کراچی تا پشاور اور پشاور تا لنڈی کوتل کے ریلوے منصوبہ پر اتفاق ہو گیا ہے جس کا افتتاح 2، 3 ماہ تک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 8.2 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک پاکستان ریلوے کا پہلا بڑا منصوبہ ہے جس سے ریل کے ذریعے سفر کا دورانیہ نصف حد تک کم ہو جائے گا کیونکہ ریل گاڑیوں کی سپیڈ کو 80 کلومیٹر سے بڑھا کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کے دوران قراقرم، تھاکوٹ اور رائے کوٹ روڈ پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے، اسی طرح مغربی روٹ کے بسیمہ خضدار روڈ کی فنانسنگ پر بھی مذاکرات جاری ہیں جس پر جلد کام شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کے حکام کو ہدایات دی ہیں کہ اس حوالہ سے وہ زمین کے حصول کا کام شروع کر دیں جبکہ ویسٹرن روٹ پر مستقبل کی ضروریات کے مطابق سڑک کی توسیع کیلئے بھی زمین حاصل کرنے کا کام شروع کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گوادرکوئٹہ سڑک مکمل ہو چکی ہے جبکہ گوادرخضدار اور رتوڈیرو روڈ پر 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جس پر ٹریفک رواں دواں ہے، یہ منصوبہ آئندہ ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا جس سے بلوچستان کی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی زونز کے قیام پر بھی تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں اور سی پیک کے تحت قائم کئے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز کے حوالہ سے چین میں روڈ شو کئے جائیں گے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کی مراعات اور مواقع سے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسے مواقع قوموں کی زندگی میں ایک دو بار آتے ہیں جن سے صحیح استفادہ کی ضرورت ہے جس کیلئے ملک میں استحکام ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ہمیں کلب کرکٹ سے ٹیسٹ کرکٹ میں لے جائے گا جس کیلئے باہمی اتفاق رائے ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے کا بڑا منصوبہ ہے جس کو چار سالوں میں مختلف فیزز میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کا افتتاح بھی مارچ تک ہو جائے گا جس کی تاخیر کے حوالہ سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت ایئرپورٹ کو چلانے کیلئے بین الاقوامی آپریٹر کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہتی تھی تاکہ مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے آسان ترین قرضوں کی فراہمی کے حوالہ سے پاکستان کو ترجیح دی ہے اور چین سے قرضہ حاصل کرنے والا پاکستان ایک بڑا ملک ہے، اس میں مزید اضافہ کیلئے بھی چین اقدامات کر رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ میں چوہدری نثار علی خان کا احترام کرتا ہوں، وہ چاہیں اختلاف کریں، ہم ملک کی سکیورٹی کے بارے میں بے حد محتاط ہیں اور کوئی بھی ذمہ دار شخص ملک کی سیکورٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں غفلت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی کے مرحلہ میں ہیں اور ہمارا مقابلہ ترقی یافتہ ممالک کی بجائے ہمارے جیسے ملکوں سے ہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ متوجہ کیا جائے تاکہ اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو متعارف کرانے کیلئے غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی تاکہ سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو متوجہ کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ بننے والے کسی بھی شخص کو ویزا نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اقتصادی طور پر ٹیک آف کر رہا ہے اور ٹیک آف کے مرحلہ میں کیپٹن تبدیل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمارے ملک کی ترقی میں معاون ہے اور دنیا کا اعتماد بحال کرنے میں اس نے بڑی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی دوستی زیادہ اہم ہے، اگر کوئی دو، چار شخص جرائم میں ملوث ہیں تو اس سے باہمی تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 2013ء کے مقابلہ میں 2018ء کا پاکستان کہیں بہتر ہے اور آج اقتصادی طور پر ابھرتا ہوا پاکستان دنیا کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں بھی قوم پالیسیوں کے تسلسل کیلئے ووٹ ڈالے گی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں