ایسا لگتا ہے بڑی طاقتیں انتہاپسندی و دہشتگردی کے خلاف لڑنا نہیں چاہتیں ،وہ اپنے اسٹریٹجک عزائم کو ترجیح دے رہی ہیں، بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری
loading...

مودی یا ٹرمپ کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے انتہاپسندی و دہشتگردی سے مقابلہ کرنا ہے، جرمن میڈیا سے گفتگو

ڈیووس: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بڑی طاقتیں انتھاپسندی و دہشتگردی کے خلاف لڑنا نہیں چاہتیں بلکہ وہ اپنے اسٹریٹجک عزائم کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ڈیووس میں جرمن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہمیں مودی یا ٹرمپ کے لیئے نہیں بلکہ پاکستان کے لیئے انتھاپسندی و دہشتگردی سے مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ملٹری آپشن پر تو کام ہوا ہے لیکن نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ انتھاپسندی اور دہشتگردی پر وسیع تناظر میں بحث ہونی چاہیئے، جبکہ ہماری توجہ فقط عسکریت پسندی پر مرکوز ہے، لیکن ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ اس ضمن میں ہم ثقافت اور نظریئے کو کس طرح بروئے کار لاسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت خطرے میں ہے،لیکن آزادی صحافت پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ملک کی تمام پارٹیاں سانحہ ماڈل ٹاون کے شہیدوں کو انصاف دلانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عام انتخابات کل ہوتے ہیں تو اس کے لیئے بھی ان کی پارٹی تیار ہے، لیکن جمہوریت کے لیئے بھتر ہے کہ اسیمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام گالم کلوچ کی سیاست کو ناپسند کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ ملک میں اشوز کی سیاست ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ایک ہی شادی ہو اور اس لیئے وہ سوچ بچار کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ کچھ سیاستدانوں کی طرح بار بار شادی کریں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں