حقیقی احتساب

احتساب

(پروفیسر عبداللہ بھٹی)

جب سے تحریک انصاف کی حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے میڈیا کے نام نہاد شاہسوار بے لاگ احتساب کے پٹاخے چھوڑ رہے ہیں۔ دانشور حضرات دن رات احتساب کی جگالی میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ خاموش غیرجانبدار عوام حکومت کی قلا بازیاں بغور دیکھ رہی ہے کہ احتساب واقعی بے لاگ غیر جانبدار اور منصفانہ ہے کیونکہ عوام اچھی طرح الیکشن کے چند دن پہلے کے لوٹوں کے ریوڑ کے ریوڑ کی بھاگ دوڑ سے واقف ہے جو پچھلی حکومت کے آستانے سے اٹھ کر آنے والی حکومت کے چوبارے پر کبوتروں کی طرح آکر بیٹھ گئے تھے.

اوپر سے عمران خان صاحب کا تاریخی جملہ کہ جو بھی تحریک انصاف میں آجا تا ہے ڈرائی کلین ہو جاتا ہے احتساب کا عمل اُسی صورت میں شفاف اور قبول ہو گا جب نون لیگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور حکومتی ارکان بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے۔ کچھ دانشور جو عرصہ دراز سے اِس بات کی جگالی کرتے آ رہے ہیں کہ فلاں لیڈر کا اگر احتساب ہوا تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جا ئے گی یا تحریک انصاف کے لوگوں کا یہ کہنا کہ عمران خان صاحب احتساب سے بالاتر ہیں یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

وطنِ عزیز میں ستر سالوں سے جو احتساب کے نام پر جو تماشا چل رہا ہے اب باشعور عوام اُسے قبول نہیں کریں گے کیونکہ گزشتہ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ملک کے بعض بااثر خاندان ہر نوع کی مراعات کے حق دار اور ہر قانون سے بالاتر ہیں۔ عوام بارہا اِس تما شے کو دیکھ چکے ہیں کہ جیسے ہی کسی بڑے لیڈر پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ملک میں اُس لیڈر کے حمایتی زلزلہ برپا کر دیتے ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز کا احتساب ہو رہا ہے بجا لیکن اگر دوسرے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہو گا تو اسے جانبداری کے زمرے میں ڈالا جائے گا۔ اِس بات میں کوئی وزن نہیں ہے کہ فلاں کے احتساب سے وفاق کو خطرات لاحق ہو جائیں گے اِیسی سوچ رکھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بڑے بڑے قیصر و کسریٰ کا دور ختم ہوا پھر بھی نظامِ دنیا اِسی طرح چل رہا ہے۔

ہمالیہ جیسے دیو ہیکل پہاڑ انسانی تاریخ کے قدموں تلے کچلے گئے لیکن گردشِ زمانہ میں کوئی سستی واقع نہ ہوئی۔ آج کا دور بلاشبہ میڈیا کی آزادی اور عوام کے شعور کا دور ہے۔ ماضی میں اگر آپ اپنی مرضی کا احتساب کر کے چند دانشوروں کو خرید کر رائے عامہ کو اپنی مر ضی کے مطابق ڈھال لیتے تھے تو آج وہ دور نہیں ہے آجکل ہر پارٹی میں بو لنے والے لوگ موجود ہیں پھر میڈیا جو لفظوں کی جادوگری اور الفاظ کی چابک دستی سے غلط رائے کو پنپنے نہیں دیں گے۔

موجودہ حکومت کو ایک بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ جتنے ووٹ اُس کی حمایت میں پڑے ہیں اُس سے دوگنے اُس کی مخالف پارٹیوں کو بھی پڑتے ہیں۔ کروڑوں ووٹ جو آپ کی مخالفت میں پڑے ہیں وہ خورد بینیں لگا کر حکومت کے ہر عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دوسرا آپ نے بہت تقریریں بہت با تیں اور دعوے کر لیے باتوں سے لوگوں کے پیٹ نہیں بھرتے باتوں سے لوگوں کے کام نہیں ہوتے۔

اب تو عمل اور حقیقی شفاف احتساب ہو گا تو ہی عوام کو تسلی ہو گی کیونکہ باتیں تو پانی کے بلبلے ہوتی ہیں جو چند لمحوں میں ہی پانی بن جاتی ہیں۔ موجودہ حکومت کو اپنوں غیروں کی تمیز کیے بغیر کڑا اور بے رحم احتساب کر نا چاہیئے۔ اِس چیز سے قطع نظر کہ کس کے احتساب سے کیا ہوگا۔

وطن عزیز کے اربوں روپے ڈکارنے والے چاہے جس پارٹی سے بھی منسوب ہوں اُن کا کڑا احتساب ہونا چاہیئے۔ ستر سالوں سے بہروپئے سیاستدانوں اور معاشرے کے بااثر لوگوں نے بھیس بد ل بدل کر ملک کو جو لوٹا ہے اُن سے پائی پا ئی وصول کرنی چاہیئے۔

یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اِس کی بنیادوں میں لاکھوں آزادی کے پروانوں کا خون شامل ہے اِس ملک کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔ اگر وزیراعظم صاحب بلا خوف و خطر احتسا ب کریں گے تو انہیں کامیابی ہوگی لیکن اگر اُن کے اپنے نورتنوں میں کرپٹ لوگ بیٹھے ہوں گے یا بینکوں کے بنک ڈکارنے والے کچن کیبنٹ میں شامل ہونگے تو عوام دیکھ رہے ہیں اور کائنات کا اکلوتا وارث بھی جس نے کائنات کی تخلیق ہی اِس اصول پر کی ہے کہ اِس دنیا میں جو مثبت کام کرتا ہے اسے واپس بھی مثبت ہی ملتا ہے اور جو جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی کرتا ہے اُس کے گلے میں ہار بھی جھوٹ فراڈ کا ہی آئے گا۔

اگر آپ کی نیت ٹھیک ہے تو قدرت بھی آپ کا ساتھ دے گی اور اگر آپ نے خلوصِ نیت سے احتساب کا عمل نہ کیا تو وقت بہت بے رحم ہے جو آپ سے پہلے بھی بڑوں بڑوں کو چاٹ گیا۔

شفاف احتساب کے لیے سب سے پہلے اپنی ذات پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ موجودہ حکومت مدینہ کی ریاست کی بہت بات کرتی ہے۔ مدینہ کی ریاست تو بہت دور کی بات مرادِ رسول جناب حضرت عمر بن خطابؓ کا دورِ حکومت ہی پڑھ لیں تو ان کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ جب انہوں نے شکایت پر مصر کے گورنر کو پاس بلا کر شدید تنبیہ کی جس کے بیٹے نے محض گھوڑا آگے نکلنے پر غلام زادے کو کو ڑے مارے تھے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے عیا ض بن غنم (گورنر مصر) کا عہدہ اُس سے واپس لے کر اُس کے ہا تھ میں ڈنڈا پکڑا دیا اور کہا جاؤ جا کر بیت المال کے جانوروں کو چراؤ اور تاریخی جملہ بھی کہا ” تم نے کب لوگوں کو غلام سمجھنا شروع کر دیا جب کہ اِن کی ماؤں نے اِنہیں آزاد جنا ہے “۔

پھر اُسے چرواہا بنا دیا کہ تم حکومت چلانے کے قابل نہیں بلکہ ریوڑ چرانے کے قابل ہو اور آپؓ کے ہی دورِ حکومت میں آپؓ نے والی عسان جبلہ بن اہم کو دورانِ طواف ایک بدو کو تھپڑ مارنے پر وہی سزا دی تو وہ بولا آپؓ بادشاہوں سے غلاموں کا قصاص لیتے ہیں تو عمرؓ کی پُر جلال آواز گونجی ” اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے یہ برابری سب کو ماننی پڑے گی یا دائرہ اسلام سے نکلنا ہوگا۔

یہی عمر فاروق تھے جنہیں خطبہ جمعہ کے دوران ایک بدو کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ مالِ غنیمت میں ہمیں جو کپڑا ملا ہے آپؓ کو بھی اتنا ہی ملا ہے، آپؓ کا قد لمبا ہے اِس لیے آپؓ کا کرتہ تو نہیں بن سکتا تو آپؓ کا کر تہ کیسے بن گیا؟ تو تاریخ انسان کے عظیم ترین حکمران کہتے ہیں ” میں نے اپنے کرتے میں اپنے بیٹے کا کپڑا بھی استعمال کیا۔”

یہ کردار ہے اِس انسان کا جو چھیاسی لاکھ مربع میل کا حکمران تھا جس نے دورانِ قحط خود پر نرم روٹی اور روغن حرام قرار دیا کہ جب تک ساری امت نہیں کھائے گی عمرؓ بھی نہیں کھائے گا. آپؓ کے لباس پر بارہ بارہ پیوند لگے ہو تے تھے اور آپؓ مسجد نبوی کے کچے فرش پر سوتے تھے جب تک آپ خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کریں گے حقیقی شفاف احتساب نہیں ہو گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں