پانی کا سنگین بحران اور ہماری قومی غفلت

آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں قلت آب کے شکار ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ اس کی وجہ پانی کی ذخیرہ نہ کرنا اور اس کا نامناسب استعمال ہے۔یہ امر انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گرمی کے موسم کا دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے اور عالمی ماہرین جو اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان پانی کے خطرناک بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت خصوصاً منصوبہ بندی کے اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آئندہ بیس سال میں چالیس فی صد لوگوں کو پانی دستیاب نہ ہو گا ۔یہ بات گزشتہ ایک دہائی سے کہی جا رہی ہے کہ اب اگر کسی مسئلہ پر عالمی جنگ چھڑی تو وہ پانی کا مسئلہ ہو گا مگر حیرت ہے کہ سیاستدانوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ہم بے شمار غیر ضروری امور پر لایعنی بحث مباحثے میں تو الجھے رہتے ہیں مگر قلت آب جیسا سنگین معاملہ کسی سطح پر زیر گفتگو نظر نہیں آتا حالانکہ اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو کسی دشمن کی کارروائی کے بغیر اس ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پانی نہ ملنے کے باعث ہولناک تباہی اورجانی ومالی نقصانات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ ملک میں اس وقت ذخیرہ آب کے لئے صرف منگلا اور تربیلا دو ہی بڑے ڈیم ہیں وہ بھی سطح آب میں ڈیڈ لیول پر ہیں جس کے باعث فصل خریف کے لئے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ادھر بھارت نے پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرتے ہوئے دریاؤں کا پانی روک لیا ہے۔پاکستان کو قدرت نے وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے۔ قطبین کے بعد یہیں پر ہی سب سے زیادہ گلیشیئرز ہیں جن کا پانی ہمارے دریاں کو رواں دواں رکھتا ہے۔ 5 بڑے دریاؤں کے علاوہ دسیوں چھوٹے دریا، ندی نالے چشمے جھیلیں موجود ہیں لیکن ہماری شاندار صلاحیتوں کی بدولت آج ہمارا شمار پانی کی شدید قلت والے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ملک کا بیشتر حصہ خشک سالی کا شکار رہتا ہے اور اگر کبھی بارانِ رحمت زیادہ برس جائے تو ہم سیلاب میں ڈوبنے لگتے ہیں۔ نہ ہمیں خشک سالی سے نمٹنا آتا ہے اور نہ ہی ہم سیلاب کے اضافی پانی کو محفوظ کرسکتے ہیں۔ آبی وسائل کی حفاظت اور دستیابی میں جنگلات کا بھی اہم کردار ہے۔ جنگلات کا وسیلہ بارشوں کے نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پانی کے وسائل اور جنگلات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جنگلات کے بغیر آپ بہتر آبی وسائل کا تصور نہیں کرسکتے۔آبی وسائل کے تحفظ کے لیے زمین کا جنگلات سے زیادہ سے زیادہ ڈھکا ہونا بہت ضروری ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں یہ وسیلہ 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور یہ بھی سرکاری اعداد و شمار ہیں، واقفانِ حال تو اسے صرف 2 فیصد بتاتے ہیں، اور وہ بھی ٹمبر مافیا کی زد پر ہے۔جنوبی ایشیا میں سب سے کم جنگلات صرف پاکستان میں ہیں، پڑوسی ملک انڈیا میں یہ وسیلہ 23 فیصد تک ہے۔ یہ طے ہے کہ آبی وسائل کے تمام ذرائع کو تحفظ دینے کے لیے زمین پر سبزے کی چادر کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ درخت، پودے، سبزہ اور جھاڑ جھنکاڑ ہی ہیں جو پانی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور ہر قطرے کو کسی قیمتی شے کی طرح زمین کی گود میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ پانی کا ہر قطرہ کتنا اہم ہوتا ہے اس کی اہمیت اس جملے سے واضح ہوتی ہے جو کسی کہاوت ہی کی طرح مشہور ہوگیا ہے کہ Catch water where it falls پانی کے ہر قطرے کو وہیں محفوظ کرلیا جائے جہاں یہ گرتا ہے۔
ہماری اہلیت تو اس سے عیاں ہے کہ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم ایک واٹر پالیسی سے بھی محروم ہیں۔ جس وقت پاکستان آزاد ہوا، ہمارے آبی وسائل بہترین حالت میں تھے۔ ملک میں ہر فرد کو پانی کی دستیابی 5000 کیوبک میٹر تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ دستیابی اور بہتر ہونی چاہیے تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گھٹتی چلی گئی اور اب فی فرد پانی کی دستیاب مقدار 1000 کیوبک میٹر ہوچکی ہے۔ ماہرین اسے اور بھی کم بتاتے ہیں۔ سرزمین پاکستان کی خوش قسمتی کہئے کہ شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور شمالی پنجاب میں ایسے ہزاروں قدرتی مقامات ہیں جنہیں ڈیموں میں تبدیل کر کے مون سون کی بارشوں کا پانی سال بھر کے لئے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو بلا تاخیر اس بارے میں سوچنا چاہئے۔
شہر قائد میں کرکٹ میلہ:پوری دنیا کو امن کا پیغام
شہر قائد میں کئی برس بعد پی ایس ایل کے فائنل کی صورت میں کرکٹ میلہ کا کامیاب انعقاد اپنے اختتام کو پہنچا۔ شہریوں کا جوش و خروش دیدنی رہا۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کراچی میں فائنل میچ کے کامیاب انعقاد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل جائیں گے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروزے بند ہونا پاکستانی قوم پر کسی ظلم سے کم نہ تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ یہی کھیل پسند کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں حالات سے زیادہ اس پروپیگنڈے کا ہاتھ تھا جوبھارت اور مغربی میڈیا نے کیا۔ نتیجتاً پاکستان میں طے شدہ سیریز کا انعقاد بھی نہ ہو پایا اور پاکستان کواپنی ہوم سیریز بھی متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں کھیلنا پڑیں۔ 2011میں 12فروری سے 2اپریل تک کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی بھی پاکستان سے چھین لی گئی۔ حالات کی ناسازی کا بہانہ بنا کر وہ میچز جو پاکستان میں ہونا تھے، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں منعقد کروائے گئے۔ اسی دوران آئی سی سی بگ تھری کے ہاتھوں موم کی ناک بن گئی جس میں بھارتی بورڈ کا رسوخ زیادہ تھا چنانچہ اس نے یہاں بھی دشمنی نبھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس دوران اگرچہ سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ بھی کیا لیکن دیگر ٹیموں نے اجتناب کیا۔ بہرکیف گزشتہ برس پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرایاگیا اوراب کراچی میں اس کا کامیاب انعقاد اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان ہرطرح سے ایک پرامن ملک ہے۔ شہر قائد میں پی ایس ایل کے فائنل کا انعقاد ایک خوش آئند امر ہے جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ہی نہیں ہر کھیل کے بین الاقوا می مقابلے منعقد ہوں گے۔ اس حوالے سے ایک خوشخبری پاکستان میں متعین آسٹریلوی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن کی طرف سے آئی ہے کہ امید ہے آسٹریلوی ٹیم بھی جلد پاکستان کادورہ کریگی۔ پاکستان کو اب ایسے مقابلوں کا تسلسل جاری رکھنا ہوگا تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان نے ہر طرح کی بدامنی پر قابو پالیا ہے۔ اہلیان پاکستان اور شائقین کرکٹ دورہ ویسٹ انڈیز کا بھی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور کا یہ کہنا بالکل بجا ہیکہ ہم پر مسلط کی گئی دہشتگردی کا خاتمہ ہو رہا ہے، ہم امن و استحکام کی جانب گامزن ہیں اور یہی ہماری منزل ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں