مناواں: زہریلی ٹافیاں کھانے سے ایک ہی خاندان کے3بچے جاں بحق

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے علاقے میں دکانیں بند کر اکے ٹافیوں کے سیمپل لے لیے ،تحقیقات کیلئے ٹیکنیکل ٹیم بھی تشکیل دیدی گئی‘ والدین کا بیان قلمبند کر لیا گیا ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
موت کی اصل وجہ پوسٹمارٹم ،فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئیگی‘ بظاہر زہر خورانی کا کیس لگتا ہے‘ 70سالوں سے خراب نظام راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتا‘ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل
لاہور: مناواں کے علاقہ مبینہ طو رپر زہریلی چیز کھانے سے ایک ہی خاندان کے 3بچے جاں بحق ہو گئے ،پنجاب فوڈ اتھارٹی نے 200میٹر کی حدود میں واقع تمام دکانیں بند کروا کے ٹافیوں کے سیمپل لے لیے جبکہ تحقیقات کیلئے ٹیکنیکل ٹیم بھی تشکیل دیدی گئی ،بچوں کے گھر سے بھی کھانے اورپینے کی اشیاء کے سیمپل لے ے کر والدین کا بیان قلمبند کر لیا گیا ،ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے کہا ہے کہ بچوں کی موت کی اصل وجہ پوسٹمارٹم اور فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی ،ٹافیوں میں خرابی پائی گئی تو کمپنی اور ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ مناواں کے علاقہ میں مبینہ طور پر زہریلی ٹافیاں کھانے سے تین بچوں کی حالت خراب ہو گئی جنہیں طبی امداد کے لئے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی جس پر انہیں سروسز ہسپتال لایا گیا تاہم دو بچے راستے میں ہی دم توڑ گئے جبکہ تیسرا بچہ بھی ہسپتال پہنچ کر جان کی بازی ہار گیا ۔ جاں بحق ہونیوالے بچوں میں طیب ، حسیب اور علشبہ شامل ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد بچوں کی موت کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی ۔ دوسری جانب ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل سروسز ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے بچوں کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت کیا ۔ انہوں نے ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر محمد میر سے ملاقات کر کے بچوں کی موت کے حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ایک ٹیم مناواں پہنچ چکی ہے تاہم ٹافیاں کھانے سے مزید بچوں کی حالت خراب ہونے کی اطلاع نہیں ملی ۔ 200میٹر کی حدود میں تمام دکانوں کو ہنگامی طور پر بند کروا کر ٹافیوں کے سیمپل لے لیے گئے جبکہ مزید تحقیقات کے لئے ٹیکنیکل ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی بچوں کے کھانے پینے کی اشیاء کو خصوصی طو رپر چیک کر رہی ہے اور ہم فیکٹریوں کو اپنے دائرے میں لائے ہیں۔ ملک میں 70سالوں سے جو خرابیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چیزی ایسی ہیں جو پولیس سے متعلقہ ہیں ، یہ زہر خوانی کا کیس لگتا ہے تاہم اصل وجہ پوسٹمارٹم اورفرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آ سکے گی۔بچوں کے گھر سے بھی کھانے اور پینے کی اشیاء کے سیمپل لے لئے گئے اور اس کے ساتھ والدین کا بیان بھی قلمبند کیا گیا ہے ۔ والدین کے مطابق بچوں نے آخری بار مسر اور چاول کھائے تھے ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں