برطانوی سفارتکار نے سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کو مسجد کیوں کہا؟ سکھوں کا شدید رد عمل

سکھ

یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ ملک کے سب سے سینئر ترین سفارتکاروں سے اتنی بڑی نادانی ہو سکتی ہے،چیئرمین سکھ فیڈریشن

ایک اعلی برطانوی سفارتکار نے سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کوغلطی سے مسجد کہہ دیا جس پر انہوں نے معافی بھی مانگی مگر قبول نہ ہوئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سینئر برطانوی سفارتکار سائمن مکڈونلڈ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ساتھی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ ان کے ایک ساتھی کو امرتسرمیں ملکہ برطانیہ کی سنہری مسجد میں لی گئی تصویر دی گئی تھی۔
اس ٹوئٹ کے بعد سوشل میڈیا پر سکھ برادری کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا، سکھوں کا کہنا تھا کہ اس ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔  سکھ تنظیم کے رہنما جسویر سنگھ نے ٹوئٹ کیا کہ اکثر سکھوں کو مسلمان سمجھا جاتا ہے اور برطانوی معاشرے میں عمومی طور پر مذاہب کے متعلق آگاہی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
سائمن نے اپنے ٹوئٹ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہ لکھتے ہوئے یہ بھول گئے کہ مسجد تو مسلمانوں کی عبادت کی جگہ ہے جبکہ سکھوں کی عبادت کی جگہ تو گرو دوارہ ہوتا ہے۔انہوں نے بعد میں اپنے آپ کو درست کیا، غلطی تسلیم کی اور معافی بھی مانگ لی۔ لیکن ان کی معافی قبول نہیں کی گئی۔
سکھ فیڈریشن کے چیئرمین امرک سنگھ نے کہا کہ یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ ملک کے سب سے سینئر ترین سفارتکاروں سے اتنی بڑی غلطی ہو سکتی ہے، یہ سرارسر لا پرواہی ہے، یہ بہت شرمندگی کی بات ہے اور ناقابلِ معافی ہے۔ امرک سنگھ نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں صرف معافی مانگ لینا کافی نہیں، ہمیں ایسی غلطی کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا ورنہ ہمارے بیچ نفرت اور امتیازی رویہ پنپتا رہے گا۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  چوبیس گھنٹوں کے بعد مسلم لیگ ن کے اقتدار کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا،بیر سٹر سلطان محمود چوہدری

اپنا تبصرہ بھیجیں