لاڑکانہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج
loading...

کراچی:رواں ہفتے لاڑکانہ میں سیشن کورٹ کے دورے کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی برہمی کا سامنا کرنے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا۔

تفصلات کے مطابق واضح رہے کہ 23 جون کو چیف جسٹس نے لاڑکانہ سیشن کورٹ کے دورے کے دوران میز پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کا موبائل فون دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موبائل اٹھا کر پٹخ دیا تھا جبکہ مذکورہ جج کے تبادلے کا بھی حکم دیا تھا۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کی جانب سے استعفیٰ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو بھجوایا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے استعفے کے متن کے مطابق ‘میں 20 مارچ 2017 سے لاڑکانہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے عہدے پر کام کر رہا ہوں ٗچیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی کارروائی کے دوران میری عدالت کا دورہ کیا اور برہمی کا اظہار کیا۔گل ضمیر سولنگی کے مطابق چیف جسٹس کے دورے کی ویڈیو الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر دکھائی گئی، جس سے میری ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔جج گل ضمیر سولنگی کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں، میں اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتا لہذا استعفیٰ دے رہا ہوں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے لاڑکانہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کا استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کردی۔ہائی کورٹ آفس کے ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج اپنا استعفیٰ سیشن جج کو ارسال کرتا ہے اور متعلقہ سیشن جج پیش کردہ استعفیٰ پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ہائی کورٹ آفس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والا استعفیٰ سادہ کاغذ پر ہے، لہذا سادہ کاغذ اور غیر متعلقہ فارم کے ذریعے استعفیٰ پر کارروائی نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں۔  نیشنل بینک کے صدر کی جانب سے کسانوں کے لیے کریڈٹ کی سہولت میں غیر معمولی اصلاحات کا اعلان!

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں