بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر، ہندو انتہا پسند تنظیموں کا ایودھیا میں اجتماع

بابری مسجد
loading...

ایودھیا: بھارتی ہندو انتہاء پسندوں نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کو تعمیر کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا، ہندو انتہا پسند تنظیموں کے اجتماع کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ہندو انتہاء پسند تنظیموں اور حکومتی جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے ایودھیا میں ایک بڑے مذہبی اجتماع کا انعقاد کیا گیا، رپورٹ کے مطابق وشوا ہندوپریشد دھرم اور شیوسینا کے حامیوں نے شہر بھر میں ریلیاں نکالیں اور مسلمانوں کے خلاف کھل کر نعرے بازی بھی کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وشو ہندو پریشد دھرم سبھا اور بی جے پی کی جانب سے منعقد ہونے والے جلسے میں مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا جس میں حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کے حوالے سے تاریخ کا اعلان کردے۔

دھرم سبھا اجتماع میں ہندو انتہاء پسند تنظیم شیو سینا کے سربراہ اُدھو ٹھاکرے نے بھی شرکت کی اور مسلمانوں کو دھمکی دی کہ ’اگر رام مندر کی تعمیر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو اُس کو بھارت سے بے دخل کردیا جائے گا‘۔

اس تقریب میں آر ایس ایس، بی جے پی سمیت وشو ہندو پریشد دھرم سے تعلق رکھنے والے 60 لوگوں نے خطاب کیا، مقامی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے نام پر ایودھیا کو قلعے میں تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو گھروں سے بلا ضرورت نہ نکلنے کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور حکومتی جماعت کی رہنما اوما بریگیڈ نے اجتماع سے خطاب کیا، انہوں نے انتہا پسندوں کو مسلمانوں کے خلاف خوب بھڑکاتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ حکومت ہندو مذہب کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایودھیا میں اب صرف رام مندر کی ہی تعمیر ہوگی اس کے علاوہ اگر کسی نے کچھ کرنے کی کوشش بھی کی تو وہ خود ہی ذمہ دار ہوگا۔

تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا کہ ’حکومت مسلمانوں سے زمین چھین کر اس پر ہر صورت مندر تعمیر کرے۔

دوسری جانب بھارت کے مسلمانوں رہنماؤں اور کانگریس نے ہندو انتہا پسندوں کے اجتماع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مندر تعمیر کرنے کے دو ہی راستے ہیں، پہلا یہ کہ اس کا پارلیمنٹ سے قانون منظور کرایا جائے یا پھر سپریم کورٹ اس کی تعمیرات کا حکم دے، اس طرح کے اجتماعات کا انعقاد امن و امان کی صورت حال خراب کرسکتا ہے‘۔

بھارتی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’بی جے پی نے اس جلسے کا انعقاد آئندہ آنے والے الیکشن کی وجہ سے کیا کیونکہ مودی کی جماعت ہندو مسلمان فسادات کروا کے ہی حکومت کرنے کی خواہش مند ہے‘۔

Spread the love
  • 10
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں