پاکستان کو FATF کے اقدامات پر عمل کرنے کی ڈیڈلائن مل گئی

ایف اے ٹی ایف

اسلام آباد: پاکستان کو 15دسمبر تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے 27؍ قابل چارہ جوئی منصوبوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

جبکہ اسی کے ساتھ 8 تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کا سراغ لگاکر ان کے اثاثے منجمد کرکے یہ ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ پاکستان کی جانب سے یہ اقدامات کر لیے گئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے یہ شرط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (یو این ایس سی آر) 1267اور 1373پر عملدرآمد کیلئے رکھی ہے اور پاکستان کو مئی 2019ء تک اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

عدم عمل یا کارکردگی نہ دکھانے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے یا پھر جنوری سے ستمبر 2019ء تک کسی بھی وقت پاکستان کو مزید ایک سال کیلئے گرے لسٹ میں برقرار رکھا جا سکتا ہے جس سے دوررس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس 5 سے 7 جنوری 2019ء تک منعقد ہوگا جس میں اس کی علاقائی تنظیم ایشیاء پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی پیش کردہ غیر تسلی بخش رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا جائے گا، ساتھ ہی 670؍ مشاہدا ت پر مشتمل رپورٹ کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

اے پی جی مشن کا اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا تھا اور تنظیم کی جانب سے عملدرآمد رپورٹ ارسال کرنے کیلئے آئندہ ماہ کے وسط کی ڈیڈ لائن بھی دی ہے جسے سڈنی میں آنے والی جنوری کے پہلے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف جائزہ لے گی۔

اکتوبر 2018ء کے دوران پاکستان کی پیشرفت رپورٹ اور اے پی جی کے جواب کے مطابق اے پی جی نے پاکستان سے وضاحت مانگی کہ اس کی وہ کون سی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں، سکیورٹی یا انٹیلی جنس ادارے ہیں۔

جن کے پاس سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 اور 1373 میں نامزد کردہ افراد، تنظیموں بشمول داعش، القاعدہ، فلاح انسانیت ، جماعت الدعوۃ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے وابستہ افراد کی معلومات ہوتی ہیں۔ اس اہم نتیجہ پر اکیلے اے پی جی کی ٹیم نے 18معاملات کی نشاندہی (Observations) کی ہے اور 15 دسمبر 2018 تک فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اے پی جی مشن کو بتایا گیا کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے منقولہ اور غیرمنقولہ اثاثے اور ان کی ویلفیئر خدمات کو ضبط کیا جا چکا ہے۔

اس حوالے سے ملک کے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب نے دونوں تنظیموں کے 170 اثاثے ضبط کیے ہیں جن میں 82 مدارس یا مراکز، 70 اسپتال یا ڈسپنسریاں، 25 تعلیمی ادارے اور 13 دفتری مراکز شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا نے محکمہ اوقاف کے ذریعے 5 ؍ مدرسے اور 8 مساجد ضبط کیں۔ پشاور میں دونوں تنظیموں کے 2 دفاتر بند کیے گئے۔

ہری پور میں ایک ڈسپنسری جبکہ ایک دفتر، ایک مدرسہ، ایک ڈسپنسری، اور ایک اسپتال کے ساتھ ایک ایمبولینس کو پولیس نے مانسہرہ میں ضبط اور بند کیا۔ فلاح انسانیت کی ایک گاڑی اور جماعت الدعوۃ کے3 دفاتر کو ایبٹ آباد میں بند کیا گیا جبکہ جماعت الدعوۃ کا ایک دفتر اور ڈسپنسری کو پولیس نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بند کیا۔

فلاح انسانیت کی طبی سہولیات اور ایمبولینس سروسز کو ضبط کرکے پاکستان ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کیا گیا۔ تعلیمی ادارے متعلقہ صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام آگئے۔

اداروں کی کارروائیوں کی نگرانی کیلئے حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے منتظمین کی جگہ حکومت نے خود انتظام سنبھال لیا۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 اور 1373 کے تحت فہرست میں درج افراد یا تنظیمیں جنہیں یو این ایس سی (پاکستان) ایکٹ 1984ء کے ساتھ پڑھا جائے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997ء کے تحت نامزد کردہ افراد یا تنظیموں کے شناخت کردہ تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا چکے ہیں۔

اس حوالے سے تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267؍ کے تحت مجموعی طور پر 122 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا جن میں 2001ء سے تقریباً 9.5 ملین ڈالرز یعنی تقریباً ایک ارب روپے کی رقم موجود تھی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 1373 کی پیروی کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے اے ٹی اے 1997ء کے تحت 66 تنظیموں یا گروہوں کو نامزد کیا ہے۔ نامزد کردہ تنظیموں کے 8 اکائونٹس میں 3.6 ملین روپے منجمد کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر نیکٹا نے اے ٹی اے 1997ء کے شیڈول 4؍ کے تحت نامزد کردہ افراد کی فہرست شائع کی ہے، بینکوں نے اطلاع دی ہے کہ 4470 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں جن میں تقریباً 43.2 ملین روپے موجود تھے۔

اس کارکردگی رپورٹ پر اے پی جی نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 18؍ نکات پر جواب دے جبکہ نامزد افراد یا گروہوں کی ہدایت پر عمل کرنے والے افراد اور گروہوں کی شناخت کرنے کیلئے بین الایجنسی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرے۔

اے پی جی نے مزید مطالبہ کیا کہ منقولہ اور غیرمنقولہ دونوں اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں منجمد کرنے کے کیسز یا ٹیموں کی تفصیلات فراہم کی جائے، کیا نتائج حاصل کیے گئے اور صوبائی پولیس ایجنسی کی معلومات دی جائے۔

قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے قانون کے نفاذ کیلئے کیا اقدامات کیے گئے، فنڈ اکٹھا کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے ساتھ موثر عملدرآمد کیلئے کیا سرگرمیاں انجام دی گئیں۔

فنڈ اکٹھا کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریقہ کار کیا ہے، سراغ لگانے اور اقوام متحدہ کے ایکٹ ایس آر او کی شقوں پر عملدرآمد تک کے عمل کی وضاحت کی جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نامزد افراد یا گروہوں کو فنڈز یا اثاثوں کی قصداً فراہمی ثابت کرنے کیلئے کیا کرنا ہوتا ہے، شواہد کا معیار کیا ہے؟

تمام اثاثوں کو منجمد کرنے کا کیا معیار ہے؟ ایمبولینسوں اور طبی سہولیات پاکستانی حکومت کے پاس ہیں یا ہلال احمر کے پاس؟ کیا ہلال احمر سوسائٹی کے ساتھ کوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں؟

کیا منجمد کردہ اثاثوں سے جڑا عملہ اور انتظامیہ سابقہ ہے؟ ہلال احمر کو سونپے گئے فلاح انسانیت کے اثاثوں کے حکم کی نقل فراہم کی جائے، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت کی قانونی حیثیت کی معلومات دی جائیں، دونوں جماعتوں کی منجمد کی گئی جائیدادوں کا کیا کیا گیا؟ وغیرہ۔

وزارت خزانہ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ حکومت نے اگلے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے وفد کی تشکیل کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں