وہ جگہ جہاں بچوں کو انسانی اعضا کھلا کر جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے

انسانی اعضا

کنشاسا: وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں طویل عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں باغی گروپ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بچوں اور بچیوں کو ان کے خاندانوں سے چھین کر لے جاتے ہیں ۔

ایسے طریقے سے برین واشنگ کرکے حکومتی فوج کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں کہ سن کر ہی آدمی کانپ اٹھے۔

دی مرر کے مطابق یہ لوگ خاص طور پر کم عمر لڑکیوں کو اٹھاتے ہیں اور کالے جادو کے ذریعے ان کی برین واشنگ کرتے ہیں۔

اس دوان انہیں انسانی گوشت بھی کھانے اور خون پینے کو دیا جاتا ہے اور پھر انہیں حکومتی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔یہ گوشت اور خون عموماً حکومتی فوجیوں کا ہوتا ہے۔

ان بچوں کو فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے جو ہتھیار دیئے جاتے ہیں وہ صرف ایک جھاڑو ہوتا ہے یا پھر جادوئی سکرٹ۔ اب تک باغی گروپ 20 ہزار سے زائد بچوں کو اس طریقے سے جنگ میں جھونک چکے ہیں۔

انسانی اعضا

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کانگو میں بچوں کو جس طرح جنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے یہ شام کے انسانی بحران سے کسی طور بھی کم نہیں ہے۔ اب تک اس خانہ جنگی میں 14لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 4لاکھ بچے فاقوں کے باعث موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

انسانی اعضا

“اقوام متحدہ نے بھی کانگو کی صورت حال کو تیسرے درجے کی خطرناک صورتحال قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی انسانی بحران ہے جو عراق، شام اور یمن کو نگل چکا ہے۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں