گھر خریدتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

گھر

آج کے دور میں گھر خریدنا ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔ گھروں کی قیمتوں میں آئے روز ہوتے اضافے نے اپنے گھر کے خواب کی تعبیر پانا عام انسان کی دسترس سے باہر کردیا ہے۔

کرائے پر رہنے والے حضرات ذاتی گھر رکھنے والے لوگوں کوخوش قسمت انسان کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام انسان کی پہلی خواہش ذاتی گھر کا حصول ہی ہوتا ہے، جس کی تکمیل کے لیے وہ طویل عرصے سے بچت اور بجٹ پر کام کررہا ہوتا ہے۔

جب بات آتی ہے ذاتی گھر کی خریداری کی، تو خاصا محتاط رویہ اپنانا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی آ پ کے ساتھ فراڈ نہ کرجائے، تمام دستاویزات شفاف ہیں، کوئی قانونی قد غن تونہیں، گروی تو نہیں رکھی ہوئی اور یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ مالکان کتنے ہیں۔

اُن کی کوئی آپس کی چپقلش تو نہیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم جانچ پڑتال کے علاوہ بھی کئی ایسے امور ہیں، جن کی جانب آپ کو توجہ دینی ہوتی ہےلیکن انھیں معمولی مسائل سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ گھر بار بار نہیں خریدا جاتا، چنانچہ گھر خریدتے وقت درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں۔

گردونواح کا جائزہ

معروف انٹرنیشنل فنانشل ویب سائٹ کے ماہر بیسی حسن کا کہنا ہے کہ گھر خریدنے کے مرحلے میں کوئی جلدبازی نہ دکھائی جائے۔اس ویب سائٹ پر دیئے گئے ڈیٹا کےاعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گھر خریدنے والے افراد میں سے 33 فیصد ایسے ہیں۔

جو ارد گرد کے ماحول کازیادہ سے زیادہ جائزہ لینا پسند کرتے ہیں جب کہ  22 فیصد افراد ایسے ہیں، جو بنا ماحول کی پرواہ کیے گھر کی خریداری میں جلد بازی دکھاتے ہیں اور پچھتاتے ہیں کہ انھوں نے اس علاقے میں گھرکیوں خریدا۔

اس لیے گھر خریدنے سے پہلے نہ صرف گھر بلکہ گردونواح کا بھی اچھی طرح سے جائز ہ لیں، مثلاً کہیں یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ تو نہیں؟  ایسی کسی جگہ اس گھر کی تعمیر تو نہیں کی گئی جو حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتی ہو یا پھر ناجائز تجاوزات کے ذمّرے میں آتی ہو یا اس گھر کی مینٹیننس کے لیے کون سی سہولیات موجود ہیںوغیرہ وغیرہ۔

مارکیٹ میں مکان کی قدر و قیمت

آپ جو گھر خرید رہے ہیں اس کے متعلق یہ جان لیں کہ اس مکان کی قدروقیمت کیا ہے اور مستقبل میں اس جگہ کی اہمیت کتنی بڑھ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جس ایجنٹ یا فروخت کار سے آپ گھر خرید رہے ہیں وہ یہ گھر کیوں فروخت کررہا ہے؟ صحیح جوابات کے حصو ل کے لیے آپ کا رویہ دوستانہ ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ وکیل کی طرح جرح کرنے لگ جائیں۔

loading...

گھر کتنا روشن ہے؟

چند عناصر جو ایک گھر کو خوشگوار بناتے ہیں، ان میں گھر کا کشادہ، ہوا دار اور روشن ہونا شامل ہیں۔ اس بات کی تسلی کرلیں کہ آپ کا نیا گھر ان تمام عناصر کا حامل ہو۔ گھر جتنا روشن ہوگا آپ اتنے ہی پرسکون اور بااعتماد ہوں گے، ساتھ ہی زیادہ قدرتی روشنی کی بدولت بآسانی بجلی کی بچت بھی کی جاسکتی ہے۔ لہٰذاکوشش کیجیے کہ آپ جو گھرخرید رہے ہوں۔

وہ ویسٹ اوپن ہو کیونکہ ایسٹ اوپن کے مقابلے میں ویسٹ اوپن گھر زیادہ روشن اور ہوادار ہوتے ہیں۔ماہرنفسیات کے مطابق اگر آپ ویسٹ اوپن گھر خریدتے ہیں تو آپ کو ہوا کے ساتھ لوگوں کے اندر پائے جانے والے انجانے خوف کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اگر آپ کا گھرایسٹ اوپن ہے تو اس میں روشن دان کا ہونا بے حد ضروری ہے۔

حرارتی نظام

آپ کا گھر جدید اصولوں پر تعمیر کیا گیا ہے یاپھر روایتی انداز میں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بات کا اطمینان کرلیا جائے کہ آیا یہ حرارتی نظام اور موسم کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں۔

پانی کا بہاؤ

پانی کا مسئلہ ملک بھر میں سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہاہے خصوصاً شہرِ کراچی کےکچھ علاقوں میں تو کئی کئی دن پانی نہیں آتا۔ آپ بھی گھر خریدنے سے پہلے اس علاقے میں پانی کی فراہمی سے متعلق اطمینان کرلیں کہ پانی کتنے دن آتا ہے اور کتنے دن نہیں۔ اس کے علاوہ جب گھر دیکھنے جائیں تو شاور کھول کرپانی کا پریشر چیک کریں۔

نکاسی کا نظام

گھر نہ صرف مضبوط، خوبصورت اورجدت سے بھرپور ہونا چاہئے بلکہ اس میں نکاسی کا نظام بھی بہترین ہونا چاہئے۔ نکاسی کا نظام ٹھیک ہوگا تو گھر کے ارد گرد کے علاقے کو محفوظ، صاف اور گندے پانی سے پاک رکھا جاسکتا ہے، ورنہ برسات کے موسم میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لیے یہ بھی چیک کرلیں کہ آپ کے نئے گھر میں نکاسی کا نظام سہی ہے تاکہ بعد کی مشکلات سے محفوظ رہا جاسکے۔

شور و غل محسوس کریں

اسٹیٹ ایجنٹ یا مکان فروخت کرنے والے کی چاہے جو بھی رائے ہو لیکن آپ گھر خریدنے سے پہلے کھڑکیاں کھول کرباہر سے آنے والا شوروغل چیک کریں اور اس بات کی تسلی کریں کہ آپ کا گھر باہر سے آنےوالے شوروغل سے کس حد تک محفوظ ہے۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

گھر خریدتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!” ایک تبصرہ

  1. اسلام علیکم امید کرتا ہوں کہ سب سوشل میڈیا صارفین خیر عافیت ہونگے میرے پیارے بھائیو اور ساتھیو میں آپکو آج ایسے چیز کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو ہمارے علماء نے بھی کبھی غور نہی کیا اور وہ چیز ہے لفظ فرقہ واریت اکثریت اس لفظ کا معنیٰ یہ نکالتی ہے کہ ایک فرقہ والے کو دوسرے فرقے لڑوانا مگر قرآن کریم رحمت رحیم میں یہ صاف صاف لکھا پڑا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقہ نہ پڑو . اب یہاں پر صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جہالت میں نا پڑو حق پہچانوں اور حق پر چلو اللہ رب العزت کی رسی اس میں شک نہی کہ وہ حق ہے اس اصل دین کو پہچانو اور اس پر چلو دوسرا جملہ جو خالق کائنات نے عطا کیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تقرفہ میں نہ پڑو اس کا مطلب صاف ہے کہ جب ہم حق بات کو پہچان لیں گے تو فرقہ ختم ہوجائینگے مگر قرآن مجید فرقان حمید میں یہ صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے کتنے گمراہ ہوجائیں گے

    امید کرتا ہوں کہ آپ میری ان قیمتی ہیروں کی تحقیق کروا کر اپنائیں گے انشاء اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں