پی ٹی آئی کی ٹاسک فورسز اور قبضہ گروپ

غربت مٹاؤ پروگرام

تحریک انصاف کی حکومت کے 100 روز مکمل ہونے میں چند روز باقی ہیں لیکن 50 لاکھ گھروں کے منصوبہ کے حوالے سے ٹاسک فورس کا ابتدائی کام مکمل نہ ہوسکا۔ خبر کے مطابق موجودہ حکومت اپنے ابتدائی 100 دنوں میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے اور خاص طورپر50 لاکھ گھروں کے منصوبہ پر ٹاسک فورس کا ابتدائی کام مکمل نہ ہوسکا اور نہ ہی منصوبہ کے مالیاتی پروگرام کی حتمی تشکیل ہوسکی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ وزارتوں کو 29 نومبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ کے لیے اراضی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے کیوں کہ گھروں کا منصوبہ حکومتی منشور میں سر فہرست ہے ۔ وزیراعظم نے وزارت قانون کو قانونی پیجیدگیوں میں مدد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں سے قرضوں کے حصول میں پیجیدگیاں دور کی جائیں۔دوسری طرف طلبہ کو سائیکلوں کی فراہمی، ای واؤچرز کی تقسیم، سائنس لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن اور شام کو سرکاری سکولوں میں تدریسی عمل سمیت (ن) لیگ دور کے کئی منصوبے سوروزہ حکومتی پلان میں شامل کر لیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت اپنے بڑے بڑے دعووں کے برعکس کچھ نیا نہیں کر پائی، کچھ بڑا کرنے کے دعوؤں کے نتائج کچھ بھی نہ نکل سکے، پرانے منصوبے بھی نئے منصوبوں کا حصہ اب بن رہے ہیں۔سابق دور حکومت کے دوران طلبہ میں سائیکل فراہم کرنے کا منصوبہ شروع ہوا، اس وقت کے وزیر تعلیم نے اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔موجودہ حکومت کے صوبائی وزیر تعلیم بھی اسی طرز پر چل نکلے ہیں، انہوں نے طلبہ میں سائیکل تقسیم کیں اور پھر تصویر بھی جاری کر دی۔سابق دور حکومت کا طالبات کو ای واؤچرز دینے کا منصوبہ بھی پی ٹی آئی حکومت کے 100 روزہ پلان میں شامل ہے، اس کے علاوہ سائنس لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن، شام میں سرکاری سکولوں میں تدریسی عمل، سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے تمام تر اعدادوشمار شمار آن لائن کرنے کا منصوبہ بھی نئے پی ٹی آئی حکومت کے پلان میں شامل کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اساتذہ کی ترقیوں اور تبادلوں پر کمپیوٹرائزڈ سسٹم کرنے اور سکولز لائبریریز بنانے کا سابق دور حکومت کا منصوبہ بھی نئے 100 روزہ پلان میں شامل ہے۔صوبائی وزیر تعلیم اس پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں جبکہ محکمہ تعلیم حکام اس حوالے سے کہتے ہیں کہ چاہے پرانے منصوبے ہوں کام تو کر رہے ہیں۔29نومبر حکومت کیلئے فیصلہ کن دن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے سو دن 28 نومبر کو پورے کرنے جا رہی ہے۔

ملک بھر کی طرح آجکل پرائم منسڑ ہاؤس میں صرف اور صرف ایک موضوع زیر بحث ہے۔ حکومت کے سو دن اور اس پر حکومت کا ممکنہ بیانیہ جو پرائم منسٹر عمران خان بذات خود 29 نومبر کو ایک بڑی تقریب میں پیش کریں گے۔ وہ بیانیہ کیا ہو گا۔ کیا محترم پرائم منسٹر فرداً فرداً اپنے منسٹرز صاحبان کی پرفارمنس پیش کریں گے۔ یا پھر اپنے فیل ہونے والے منسٹرز کو باہر کا راستہ دکھائیں گے ۔ یا پھر کوئی مزید انقلابی اقدامات کا اعلان کریں گے کیوں کہ حکومت کو سابقہ اعلانات پر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ پارٹی میں ایک حصے کا خیال ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کے ممبران جو اپنی اپنی وزارتوں کو ٹھیک طرح سے نہیں چلا رہے، بہتر ہے انہیں ابھی سے آف لوڈ کر دیا جائے بجائے اس کے کہ وہ آنے والے دنوں میں حکومت اور پارٹی کے لیے مزید ہزیمت کا باعث بنیں۔ اس بلاک میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کابینہ میں ان کی باری بھی آئے گی۔

وہ اسی صورت ممکن ہے جب پہلے والے وزراء فارغ ہوں گے۔ تو کیا اتنی جلدی حکومت کابینہ میں تبدیلیاں لانے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ وہ بھی ایسے موقع پر جب عمران خان صاحب کو یو ٹرن کا طعنہ بڑے شد و مد سے سننا پڑ رہا ہے۔دوسری طرف پارٹی کا وہ بلاک ہے جس کا خیال ہے کابینہ کے موجودہ ارکان کو مزید وقت ملنا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے وزرا ء صاحبان کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلًا بریفنگ لے رہے ہیں اور اگر کچھ وزیروں کو سو دن بعد تبدیل یا گھر بھجوایا دیا جائے گا تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہو گی۔جہاں تک بیوروکریسی کاسوال ہے تو وزیر اعظم کے قریبی ذرائعکے مطابق وہ افسروں کی کارکردگی سے بالکل ناخوش ہیں اور ہو سکتا ہے کہ سو دن کے بعد کچھ کلیدی افسروں کو ہٹا دیا جائے۔ وزیر اعظم خاص طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی سے نا صرف ناخوش بلکہ مایوس لگتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ سو دن کے بعد ریونیو ڈویژن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوں۔

زیادہ تر حکومتی ارکان کا خیال ہے کہ کچھ ہو نہ ہو 100 دن کے بعد وزیراعظم کابینہ کی سطح پر جزا اور سزا کا اصول ضرور متعارف کرائیں گے اور اس حوالے سے کابینہ کے کچھ ارکان کی نیندیں ضرور خراب ہیں۔عام محفلوں میں ہر دوسرا شخص یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ آخر پنجاب میں حکومت کس کی ہے۔ مسائل کا ایک انبار ہے جسے حل بہرحال اقتدار کی کرسی پر بیٹھے افراد اور افسر شاہی نے کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ادھرایک خرابی کی طرف توجہدلائی جاتی ہے، اگلے دن مسائل کانیا انبار سامنے کھڑا ہوتا ہے۔اس سارے قصے میں دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ پنجا ب میں تجاوزات کے خلاف مہم کے دوران جی ٹی روڈ پر قائم 5 میں سے 4 غیر قانونی پٹرول پمپس کو مسمار کر دیا، صرف ایک باقی بچا جوگجرخاندان کی ملکیت ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے محکمہ اراضی سے پانچوں پٹرول اسٹیشنز کی لینڈ ریکارڈ سے توثیق چاہی جس پر حکومت پنجاب نے چار پٹرول اسٹیشنز کو غیر قانونی قرار دیا لیکن ایک کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ پٹرول اسٹیشن کے علاوہ اس خاندان کے افراد کی گوجرانوالہ میں ہاؤسنگ سوسائٹی بھی ہے جسے جی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

loading...

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں