خوشبو دار تیل

منٹو

’آپ کا مزاج اب کیسا ہے؟‘‘

’’یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔ اچھا بھلا ہوں۔ مجھے کیا تکلیف تھی۔ ‘‘

’’تکلیف تو آپ کو کبھی نہیں ہوئی۔ ایک فقط میں ہوں جس کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف یا عارضہ چمٹا رہتا ہے۔ ‘‘

’’یہ تمہاری بد احتیاطیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ورنہ آدمی کو کم از کم سال بھر میں دس مہینے تو تندرست رہنا چاہیے۔ ‘‘

’’آپ تو بارہ مہینے تندرست رہتے ہیں ٗ ابھی پچھلے دنوں دو مہینے ہسپتال میں رہے۔ میرا خیال ہے اب پھر آپ کا وہیں جانے کا ارادہ ہو رہا ہے۔ ‘‘

’’ہسپتال میں جانے کا ارادہ کون کرتا ہے؟‘‘

’’آپ ایسے آدمی۔ اور کس کا دماغ پھرا ہے کہ وہ بیمار ہو کر وہاں پر جائے اور اپنے عزیزوں کی جان کا عذاب بن جائے۔ ‘‘

’’تو گویا میں اپنے سب رشتہ داروں کی جان کا عذاب بنا بیٹھا ہوں۔ میرا تو یہ نظریہ ہے کہ ہر رشتہ دار خود جان کا بہت بڑا عذاب ہوتا ہے‘‘

’’آپ کو تو رشتہ داروں کی کوئی پروا نہیں۔ حالانکہ وہی ہمیشہ آپ کے آڑے وقت میں کام آتے رہے ہیں۔ ‘‘

’’کون سے آڑے وقت میں کام آتے رہے ہیں۔ ‘‘

’’پچھلے برس جب آپ بیمار ہوئے۔ تو کس نے آپ کے علاج پر روپیہ خرچ کیا تھا۔ ‘‘

’’مجھے معلوم نہیں۔ میرا خیال ہے تمہیں نے کیا ہو گا۔ ‘‘

’’آپ کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے۔ یا آپ جان بوجھ کر اپنے رشتہ داروں کی مدد کو فراموش کررہے ہیں۔ ‘‘

’’میں اپنے کسی رشتہ دار کی امداد کا محتاج نہیں رہا‘ اور نہ رہوں گا۔ اچھا خاصا کما لیتا ہوں۔ کھاتا ہوں۔ پیتا ہوں۔ ‘‘

’’جتنا کھا سکتا ہوں کھاتا ہوں۔ جتنی پی سکتا ہوں پیتا ہوں۔ ‘‘

’’آپ کو معلوم نہیں کہ پینا حرام ہے۔ ‘‘

’’معلوم ہے۔ آج کل تو جینا بھی حرام ہے۔ مگر چچا غالبؔ کہہ گئے ہیں۔ ‘‘

مئے سے غرض نشاط ہے کس رُوسیاہ کو اِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

’’یہ چچا غالبؔ کون تھے۔ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔ میں نے تو آج پہلی مرتبہ ان کا نام سنا ہے۔ ‘‘

’’وہ سب کے چچا تھے۔ بہت بڑے شاعر۔ ‘‘

’’شاعروں پر خدا کی لعنت۔ بیڑا غرق کرتے ہیں لوگوں کا۔ ‘‘

’’بیگم! یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔ انہی کے دم سے تو زندگی کی رونق قائم ہے۔ یہ نہ ہوں تو چاروں طرف خشکی خشکی ہی نظر آئے۔ یہ لوگ پھول ہوتے ہیں۔ صاف و شفاف پانی کے دھارے ہوتے ہیں جو انسانوں کے ذہن کی آبیاری کرتے ہیں۔ یہ نہ ہوں تو ہماری زندگی بے نمک ہو جائے‘‘

’’بے نمک ہو جائے۔ کیسے بے نمک ہو جائے۔ یہاں نمک کی کوئی کمی ہے۔ جتنا چاہے ٗ لے لیجیے۔ اور وہ بھی سستے داموں پر۔ ان لوگوں کو جنہیں آپ شاعر کہتے ہیں۔ میں تو چاہتی ہوں کہ ان کو کھیوڑے کی کسی کان میں زندہ دفن کر دیا جائے ٗ تاکہ وہ بھی نمک بن جائیں اور آپ ان کو چاٹتے رہیں۔ ‘‘

’’یہ آج تم نے کیسے پر پرزے نکال لیے۔ ‘‘

’’پر پرزوں کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی۔ میں تو اتنا جانتی ہوں۔ کہ جب آپ سے کوئی معاملے کی بات کرے تو آپ بھِنّا جاتے ہیں۔ معلوم نہیں کیوں۔ میں نے کبھی آپ کی ذات پر تو حملہ نہیں کیا۔ ہمیشہ سیدھی سادی بات کر دی۔ ‘‘

’’تمہاری سیدھی باتیں ہمیشہ ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تمہیں ہو کیا گیا ہے۔ دو برس سے تم ہر وقت میرے سر پر سوار رہتی ہو۔ ‘‘

ان برسوں میں مجھے آپ نے کیا سکھ پہنچایا ہے۔ ‘‘

’’بھئی معاف کرو مجھے۔ میں سونا چاہتا ہوں۔ ساری رات ہی جاگتا رہا ہوں۔ ‘‘

’’کیا تکلیف تھی آپ کو؟ مجھے بھی تو کچھ اس کا علم ہو۔ ‘‘

’’تمہیں اگر اس کا علم بھی ہو جائے۔ تو اس کا مداوا کیا کرو گی۔ ‘‘

’’میں تو سخت نا اہل ہوں۔ کسی کام کی بھی نہیں۔ بس ایک صرف آپ ہیں جو دنیا کی ساری حکمت جانتے ہیں۔ ‘‘

’’بھئی میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن عورت ذات ہمیشہ خود کو افضل سمجھتی ہے۔ حالانکہ وہ عام طور پر کم عقل ہوتی ہے۔ ‘‘

’’دیکھیے، آپ طعن طروز پر اتر آئے۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے۔ ‘‘

’’میں معافی چاہتا ہوں۔ تم نے چونکہ مجھے اُکسایا تو یہ لفظ میری زبان سے نکل گئے ٗ ورنہ تم جانتی ہو کہ میں گفتگو کے معاملے میں بڑا محتاط رہتا ہوں۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ رہتے ہوں گے۔ مجھ سے تو آپ نے ہمیشہ ہی نو کرانیوں کا سا سلوک کیا۔ ‘‘

’’یہ سراسر بہتان ہے۔ تُم تُو میری ملکہ ہو۔ ‘‘

’’آپ بادشاہ کیسے بن بیٹھے۔ آپ کی سلطنت کہاں ہے؟‘‘

’’میری سلطنت یہ میرا گھر ہے۔ ‘‘

’’اور آپ یہاں کے شہنشاہ ہیں۔ ‘‘

’’اس میں کیا شک ہے۔ تم نے طنزاً کہا ہے ٗ لیکن حقیقت میں اس سلطنت کا حکمران میں ہی ہوں۔ ‘‘

’’حکمران تو میں ہوں۔ اس لیے کہ اس گھر کا سارا بندوبست مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ سب دیکھ بھال مجھے ہی کرنا پڑتی ہے۔ ‘‘

’’تم میری ملکہ ہو۔ اور ملکہ کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ نہیں رہنا چاہیے۔ اپنی ملکیت کا دھیان رکھنا چاہیے۔ اس لیے تم بھی یہاں کی حکمران ہوٗ اس لیے کہ تم اس کا نظم بر قرار رکھتی ہو۔ نوکروں کی دیکھ بھال وغیرہ ٗ اچھے سے اچھا کھانا پکوانا۔ سارا دن پلنگ پر لیٹی آرام کرتی رہتی ہو۔ ‘‘

’’میں تو جو آرام کرتی ہوں ٗ سو کرتی ہوں۔ پر آپ مجھے یہ بتائیے۔ ‘‘

’’کیا۔ ‘‘

’’کچھ نہیں۔ آپ اس گھر کے حکمران ہیں۔ اب میں آپ سے کیا کہوں۔ ‘‘

’’تم جو کچھ کہنا چاہتی ہو ٗ بلا خوف و خطر کہو۔ تمہیں اندیشہ کس بات کا ہے۔ ‘‘

’’کہیں جہاں پناہ بگڑ نہ جائیں۔ ‘‘

’’مذاق برطرف رکھو۔ یہ بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔ ‘‘

’’کہنا تو میں بہت کچھ چاہتی ہوں۔ مگر آپ میں ٹھنڈے دل سے سننے کا مادہ ہی کہاں ہے۔ ‘‘

’’مادہ تو تم ہو۔ میں نر ہوں۔ ‘‘

’’اب آپ نے واہیات قسم کی گفتگو شروع کر دی۔ ‘‘

’’کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ایسی باتیں بھی کر لینی چاہئیں۔ اس لیے کہ طبیعت میں انقباض پیدا نہ ہو۔ ‘‘

’’آپ کی طبیعت میں کئی دنوں سے انقباض ہے۔ سیدھے منہ کوئی بات ہی نہیں کرتے۔ ‘‘

’’میں تو چنگا بھلا ہوں۔ مجھے ایسی کوئی شکایت نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارے نفس نے بہت اونچی پرواز کی ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو کوئی مسہل تجویز کر دو تاکہ تمہاری تشفی ہوجائے۔ ‘‘

’’میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔ صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

’’بھئی پوچھ لو جو کچھ پوچھنا ہے۔ مجھے اب زیادہ تنگ نہ کرو۔ ‘‘

’’آپ تو ذراسی بات پر تنگ آ جاتے ہیں۔ ‘‘

’’یہ ذرا سی بات ہے کہ تم نے مجھ سے اتنی بکواس کرائی۔ یہی وقت میں کہیں صرف کرتا تو کچھ فائدہ بھی ہوتا۔ ‘‘

’’کیا فائدہ ہوتا۔ بڑے لاکھوں کما لیے ہیں آپ نے ٗ بغیر اس بکواس کے۔ ‘‘

’’کمائے تو ہیں۔ لیکن تم یہ بتاؤ کہ کہنا کیا چاہتی ہو۔ ‘‘

’’میں کہنا چاہتی تھی کہ جب سے نئی نوکرانی آئی ہے ٗ آپ کی طبیعت کیوں خراب رہنے لگی ہے۔ ‘‘

’’نئی نوکرانی کو کوئی بیماری ہے۔ ‘‘

’’جی نہیں۔ بیماری تو نہیں۔ لیکن میں نے اسے آج رخصت کر دیا ہے۔ ‘‘

’’کیوں۔ وہ تو بڑی اچھی تھی۔ ‘‘

’’آپ کی نظروں میں ہو گی۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ بیس روپے ماہوار میں اتنے اچھے کپڑے کیسے پہن سکتی تھی۔ بالوں میں خوشبودار تیل کہاں سے ڈالتی تھی۔ ‘‘

’’مجھے کیا معلوم۔ ‘‘

’’آپ کو سب کچھ معلوم ہے۔ آپ کے بالوں سے بھی اسی تیل کی خوشبو آتی ہے۔ معلوم نہیں یہ تیل آپ نے کہاں چھپا رکھا ہے !‘‘

سعادت حسن منٹو

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں