ملکی سیاست کا بگڑتا توازن

نواز شریف

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف گزشتہ روز العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کا فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا گیا۔

نواز شریف کے خلاف جاری احتساب مقدمات میں یہ دوسرا فیصلہ ہے اس سے قبل اسی سال چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اگر کہا جائے کہ یہ فیصلہ توقعات کے مطابق تھا تو یقیناً غلط نہ ہوگا۔ خود مسلم لیگ (ن )والوں کو بھی یہی توقع تھی کہ فیصلے میں نواز شریف سزا یاب ہوں گے۔

اس کا اندازہ اس سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاجی مہم کے انتظامات اور تیاریوں سے کیا جا سکتا ہے جو بہت دن پہلے سے شروع کر دی گئی تھیں۔ بہرکیف مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز فیصلہ آنے کے بعد یہ واضح کیا کہ ان کی جماعت خلاف قانون اقدامات سے گریز کر ے گی اور عدالتی سزا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرے گی۔ عدالتوں میں ہر مقدمے کے دفاع کی حکمتِ عملی تیار کی جاتی ہے۔

طے کیا جاتا ہے کہ دفاع کیلئے بہترین سطور کیا ہیں اس کے بعد مقدمہ اسی حکمتِ عملی کے مطابق لڑا جاتا ہے۔ سابق وز یراعظم کے خلاف قریب ڈیڑھ سال سے مذکورہ مقدمات چل رہے تھے اور ملک کے چوٹی کے وکلاء نے ان کا دفاع کیا ۔ ذرائع ابلاغ کی نظریں بھی ملکی تاریخ کے اس اہم مقدمے پر مرکوز تھیں اور قارئین و ناظرین مقدمات کی پیش رفت کے بارے تفصیلا آگاہ رہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم کے خلاف قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنسز کے سنائے جانے والے فیصلوں میں سابق حکمران جماعت کے قائدین اور کارکنوں کیلئے اطمینان اور اضطراب کے دونوں پیغامات موجود ہیں۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس کیس میں نواز شریف منی ٹریل کی فراہمی میں ناکام رہے۔ ان کے خلاف کافی ٹھوس ثبوت موجود ہیں اس لئے انہیں قید اور جرمانے کی سزا دی جا رہی ہے۔

عدالت نے نیب کو ان کی گرفتاری کی اجازت دے دی جس پر انہیں عدالت ہی سے گرفتار کر لیا گیا۔ نواز شریف کے وکلاء نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب جج کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کا فیصلہ کیا ہے جبکہ نیب فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کو چیلنج کرے گا ،گویا ان ریفرنسز پر قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میاں نواز شریف کو اپنی35سالہ سیاسی زندگی میں مشکل ترین سیاسی اور قانونی جنگ کا سامنا ہے۔ وہ تین بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے مگر ایک بار بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکے۔ دوبار اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔

تیسری بار وزارت عظمیٰ سے ان کی سبکدوشی پانامہ گیٹ سیکنڈل کا شاخسانہ تھی۔ ستمبر2017 میں نیب نے ان کے خلاف تین ریفرنسز دائر کئے۔ ایک ایون فیلڈ پراپرٹیز، دوسرا العزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ جبکہ تیسرا فلیگ شپ انوسٹمنٹ سے متعلق تھا۔ تینوں کیسوں کی سماعت پندرہ ماہ تک ہوئی پہلے کیس میں انہیں سزائے قید سنائی گئی جو بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دی اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نیب کی اپیل تاحال زیرسماعت ہے۔ العزیزیہ اسٹیل اور فلیگ شپ کیس احتساب جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں چلایا گیا۔ نواز شریف کی گرفتاری کے روز ہی منی لانڈرنگ کے ایک اور کیس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ عدالت عظمیٰ نے انہیں نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ۔ یہ ملک کی سیاسی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ پارلیمنٹ میں دوسری اور تیسری پوزیشن رکھنے والی پارٹیوں کے قائدین احتساب کی زد میں ہیں۔

بظاہر یہ حکمران تحریک انصاف کیلئے خوشی کا موقع ہے اور اس کے رہنما اس کا کھلے بندوں اظہار بھی کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان رہنماؤں کے بعد ان کی پارٹیاں قومی منظر پر اپنا مقام برقرار نہیں رکھ سکیں گی اور وہ تنہا ملک پر حکمرانی کر سکیں گے۔ یہ سوچ کثیر الجماعتی جمہوریت کے مفاد میں نہیں،ا س سے ملک میں سیاست کا توازن بگڑ جائے گا، ون پارٹی رول کسی بھی ملک میں عوام کی حکمرانی کے تصور کے خلاف ہے۔

اس سے سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا جسے پر کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی آگے آئے گا۔ جس سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے حکمران پارٹی کو چاہئے کہ جو لوگ قابل مواخذہ ہیں انہیں احتساب کے عمل سے ضرور گزارا جائے مگر اپوزیشن کو پنپنے کا موقع بھی دیا جائے اور قوم کو درپیش چیلنجز کا مل جل کر مقابلہ کرنے کے لئے مفاہمت کی فضا کو فروغ دیا جائے۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں