گیس،بجلی چوری: ملک گیر آپریشن کی ضرورت

گیس چوری

ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی و گیس چوری کی بازگشت طویل عرصے سے منظر عام پر ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی خیبر پختونخوا کی طرف سے ہنگو، کرک، سربند، اڑمڑ، سوڑیزئی، ہزار خوانی نامی علاقوں اور صوبے کے جنوبی اضلاع میں غیر قانونی طور پر گیس کنکشن منقطع کرکے24 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایک ہزار850 ٹیمپر شدہ میٹر، بجلی کی پیداوار، ٹیوب ویلوں اور دیگرکمرشل مقاصد کے لئے استعمال کئے جانے والے156 بڑے کنکشن اور 15غیرقانونی رہائشی سوسائٹیاں شامل ہیں۔ ملزمان اس قدر وسیع پیمانے پر کروڑوں روپے مالیت کی انتہائی دیدہ دلیری سے جو گیس چوری کر رہے تھے اس میں محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کا شریک ہونا خارج از امکان نہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک بات اور حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک میں بجلی کی چوری اس سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر ہو رہی ہے جس میں چھوٹے بڑے سبھی لوگ شامل ہیں۔ گیس وبجلی کی یہ چوری آج کی بات نہیں، سالہا سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

بار بار اربوں روپے مالیت کے گردشی قرضوں کا قومی معیشت پر پڑنے والا بوجھ اور بار بار بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ جس کا بوجھ ایماندار صارفین پر ڈالا جاتا ہے، یہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ گیس کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف مہم بلاامتیاز ملک گیر سطح پر سیکورٹی فورسز کی نگرانی میں چلائی جائے۔ ایسے واقعات میں ملوث محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کو پکڑنا اس لئے بھی ضروری ہو چکا ہے تاکہ اس جرم کا اعادہ نہ ہو۔ سوئی نادرن گیس خیبر پختونخوا کے جنرل منیجر کی طرف سے صوبے بھر میں یہ کارروائی فعال رکھنے کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دیے جانا ایک خوش آئندامر ہے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نہ صرف گیس بلکہ ہر سطح پربجلی کی چوری پکڑکر اس میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں