بچے کو اچھا موسیقار بنانے کے لیے مردانہ اعضا کاٹنے کی روایت

موسیقار

نیویارک: کلاسیکل موسیقی سیکھنا کتنا ہمت طلب کام ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ کلاسیکی موسیقی کی ایک ایسی قسم بھی ہے جسے سیکھنے کے لیے پہلے گلوکار کو ’خصی‘ کیا جاتا ہے۔

موسیقی کی اس صنف کا نام بھی ’خصی‘ کے انگریزی ہم معنی لفظ Castrationکی مناسبت سے کاسٹراٹو (Castrato)ہے۔ جس شخص کو یہ گائیکی سکھائی جانی ہو بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی اسے خصی کر دیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس گائیکی کے لیے ایک خاص قسم کی آواز درکار ہوتی ہے جو صرف بلوغت کو پہنچنے سے پہلے خصی ہو جانے والے مرد کی ہی ہو سکتی ہے۔

جب لڑکا بالغ ہوتا ہے تو اس کے جسم میں ’نارمل سائیکالوجیکل ایونٹس‘ وقوع  پذیر ہوتے ہیں جو اس کے نرخرے پر بھی اثرانداز ہوتے اور اس کی ہیئت کو تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے اس کی آواز میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔

لڑکے کو خصی کر دینے سے اس کے نرخرے میں یہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور جب وہ لڑکا بلوغت کو پہنچتا ہے تو اس کی آواز ایک انتہائی منفرد انداز میں نمو پاتی ہے۔18 صدی عیسوی تک یہ روایت برقرار رہی لیکن تب سے اسے ممنوع قرار دینے کا عمل شروع ہوا اور اب تک بیشتر ممالک میں اسے غیرقانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

تاہم اب بھی اٹلی اور دیگر ممالک کے بعض حصوں میں بہت محدود پیمانے پر یہ رسم جاری ہے اور لڑکوں کو خصی کرکے ’کاسٹراٹو گلوکار‘ بنایا جاتا ہے۔

loading...

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں