شہید نقیب للہ محسود سمیت سینکڑوں بیگناہوں کانامزد قاتل گرفت میں کیوں نہیں آتا، مولانا عبدالغفور حیدری

جمعیت علماء اسلام

کیا ایک چھوٹا سا پولیس افسر ریاست سے طاقتور ہے؟کیا اس کے عمل سے سندھ پولیس کے تاریخی کرداد کو مسخ نہیں کیا جارہا ہے،نقیب شہید کا قاتل اگر فوری طور پر گرفتار کرکے جوڈیشنل انکوائری نہ کرائی گئی تو ظالم اور مظلوم کی تمیز ختم ہوجائیگی،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی گرینڈ جرگہ میں محسود قبائل سے تعزیت
کراچی: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ شہید نقیب للہ محسود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کانامزد قاتل گرفت میں کیوں نہیں آتا ۔کیا ایک چھوٹا سا پولیس افسر ریاست سے طاقت ور ہے؟کیا اس کے اس عمل سے سندھ پولیس کے تاریخی کرداد کو مسخ نہیں کیا جارہا ہے ۔نقیب شہید کا قاتل اگر فوری طور پر گرفتار کرکے جوڈیشنل انکوائری نہ کرائی گئی تو ظالم اور مظلوم کی تمیز ختم ہوجائے گی۔ وہ ہفتہ کی شام کو سہراب گوٹھ میں شہید نقیب للہ محسود کے والد محمد خان سے اظہار تعزیت کے بعد نقیب شہید کے تعزیتی کیمپ میں گرینڈ جرگہ سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر حلقہ وزیرستان سے منتخب سینیٹر مولانا صالح شاہ، سینیٹر نہال ہاشمی، صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد ،ڈاکٹر نصیرالدین سواتی کے علاوہ قبائلی عمائدین جے یوآئی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ جعلی پولیس مقابلوں کوختم کرنے کیلئے قانون سازی کرکے ہمیشہ کیلئے ملک کو جعلی پولیس مقابلوں سے نجات دلائی جائے۔ جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے کراچی کے ایک طبقہ کا قتل عام بہر حال جہاں انصاف اور انسانیت کا قتل ہے وہاں قانون اور انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم سوگوار نقیب شہید کے خاندان اور قبائلی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔سپریم کورٹ کا سوموٹو ایکشن سینٹ اور قومی اسمبلی میں اس وحشیانہ کاروائی کے خلاف آواز اٹھانے کے بعد ظالم کے خلاف پوری قوم ایک پیج پر آ گئی ہے۔ مولانا حیدری نے کہاکہ سندھ حکومت وقت ضائع کرکے اپنی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے۔ صوبائی حکومت کو سپریم کورٹ کی دی گئی ڈیڈلائن کے اندر سینکڑوں بے گناہ افراد کے قاتل کو گرفتار کرنا ہوگا ورنہ 10 روز سے پر امن احتجاج پر بیٹھے قبائلی اور کراچی کی عوام کا رخ تبدیل اور پھیل سکتا ہے ۔مولانا حیدری نے کہاکہ وہ چیئرمین سینیٹ کو اس نازک ترین اور حساس مسئلے پر سینیٹرز پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دیں گے تاکہ کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں میں مارے گئے سینکڑوں بے گناہ افراد کے سفاکانہ قتل کے خلاف متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے میں پالیمنٹ کی سطح پر موثر انداز میں کردار آدا کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ایک نامزد قاتل اتنا مضبوط ہے کہ وہ تمام معزز قومی اداروں کو چینلج کرکے کبھی ملک سے بھاگنے ،انکوائری کمیٹی اور عدالت عظمی میں پیش ہونے سے انکار کررہا ہے۔آ خر وہ کس کے حکم پر یہ تماشا کررہا ہے ؟انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھا جارہا ہے کہ نامزد قاتل اداروں کو چیلنج کررہاہے۔ سندھ حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی کہ وہ قاتلوں کی پشت پناہی کرنے والی حکومت ہے یا عوامی حکومت ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے جعلی پولیس مقابلوں کی تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت اور پوری قوم کی آواز ہے ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں