رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں رشتوں کی قدر کریں

رشتوں

رشتوں اور ذمہ داریوں سے فرار تو بہت آسان ہے، لیکن مزہ تو تب ہے جب پوری زندگی خوش دلی سے ذمہ داریوں کو  نبھایا جائے

زمانہ تیزی سے تبدیلی کی جانب رواں دواں ہیں آج کے دور کی نسبت ماضی میں وسائل محدود تھے وسائل محدود ہونے کے باوجود زندگی پرسکون تھی

رشتوں میں محبتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہوتی تھی دلوں میں  قربتیں تھیں چناچہ سب مل جل کر رہتے تھے- جب کہ آج کے دور میں محبت ناپید سی ہو گئی ہے گویا اس بات میں کوئی شبہ نہیں کے آج کل کے لڑکے لڑکیاں زیادہ باشعور ہیں پھر بھی محبت جو ہماری پہچان تھی اس سے محروم ہوتے جارہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں گنجائش اور تحمل کا مادہ باقی نہیں رہا۔

آج کل آپس میں نااتفاقیاں رنجشیں ناراضگیاں  بڑھتی چلی جارہی ہیں کہیں بھائی بہن میں لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں تو کہیں ساس بہو میں اقتدار کی جنگ جاری ہے- نندیں بھابیوں سے نالاں ہیں اور بھابیاں نندوں سے…… مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے۔

رشتوں

 ہر شخص اپنی  الگ چاردیواری بنانا چاہتا ہے آج صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ بہو گھر میں آتے تھی  علیحدہ گھر کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہے بہو کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اتنا عرصہ وہ ماں باپ کے گھر رہ کر آج ایک نئے گھر میں آئی ہے جہاں ہر قدم پر ایک نیا امتحان اس کا منتظر ہے ہر لمحہ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ اسکے والدین نے اس کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ ایک اچھی بیوی اچھی بھابھی اچھی بہو بن کر دکھائے کیونکہ ذمہ داریوں سے فرار تو بہت آسان ہے۔ لیکن مزہ تو تب ہے جب پوری زندگی خوش دلی سے انہیں نبھائے  سسرال  ہر لڑکی کے لیے انجان ہوتا ہے۔

  رشتوں کو اپنائیں کیونکہ یہی لڑکی کا حقیقی گھر ہوتا ہے جسے وہ چاہے تو خلوص سے خوشیوں کا گہوارہ بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو اس کا شیرازہ بکھیر سکتی ہے برائیوں کو اپنے عمل سے اچھائیاں میں بدلنا ہی فن ہے مناسب وقت پر الگ ہونے میں کوئی برائی نہیں۔

 لیکن جب تک کے ساتھ رہیں مل جل کر رہیں چلی یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں صرف اپنے دل میں گنجائش پیداکریں پھر دیکھیں فاصلہ قربتوں میں خودبخود تبدیل ہوجائیں گے اور یہ جان رشتے اپنوں سے بڑھ کر محسوس ہوں گے۔

رشتوں

 عموما ساس نندوں بہت چاہت اور ارمانوں کے ساتھ سیکڑوں میں سے ایک چاند سا مکھڑا اپنے لاڈلے بیٹے کے لئے پسند کرتی ہیں مگر جیسے ہی یہ چاند ان کے آنگن میں اترتا ہے اس میں گرہن لگ جاتا ہے۔

 بہو یا بھابھی پر تنقید برائے تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کے ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے اس کے ماں باپ بہن بھائی سہیلیاں سب اس سے دور ہیں لہذا اس لڑکی کو یہ احساس دلانا نہایت ضروری ہے کہ سب اس کے اپنے ہی یہ گھر آ سکا ہے اس کو بگاڑنا یا بنانا اس کے ہاتھ میں ہے۔

 اہل خانہ اسے کھلے دل سے اپنائیں اپنی بھابھی اور بہو کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو سراہیں اوراس کےکاموں پر اس کی تعریف کریں ۔اگر بہو کی کسی بات تکلیف پہنچے تو چار لوگوں کے درمیان کی برائی کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود اس سے وہ بات کہیں تاکہ گلے شکوے طویل نہ ہوں۔

گھر کی بات گھر میں ہی رہے اور گھر کی عزت پر حرف نہ آئے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنانے سے اپنی بہو کو بیٹی بنایا جا سکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر کے بڑے بچوں کی نادانیوں کو اپنی فہم وفراست اور پیار محبت سے سدھار گئے تو گھر کاشیرازہ بگڑنے نہ پائے گا مختصر یہ کہ رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں ان کی قدر کرنا ہر ایک پر لازم ہے

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں